They asked ˹sarcastically˺, “O Shu’aib! Does your prayer command you that we should abandon what our forefathers worshipped or give up managing our wealth as we please? Indeed, you are such a tolerant, sensible man!”
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
See more...
Reflections are personal perspectives (reviewed for quality) and should not be taken as authoritative.
آجکل کے حالات میں جب کوئی شخص دینِ حق کو جان کر اپنی زندگی، مال اور رویوں میں تبدیلی لاتا ہے—تو معاشرہ اُسے شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے حضرت شعیبؑ کی قوم نے کہا تھا :
'اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے راستے (معبودوں) چھوڑ دیں؟' (سورہ ہود: 87)
یہی جملے آج بھی سننے کو ملتے ہیں: 'کیا تم اپنے بزرگوں سے زیادہ سمجھ دار ہو؟ ، کیا تم ان سے زیادہ جانتے ہو؟' 'یہ تو ہمارے ہاں معاشرے م...See more
وهذا القول الذي أخرجوه بصيغة التهكم وأن الأمر بعكسه ليس كما ظنوه؛ بل الأمر كما قالوه: إن صلاته تأمره أن ينهاهم عما كان يعبد آباؤهم الضالون، وأن يفعلوا في أموالهم ما يشاؤون؛ فإن الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر، وأي فحشاء ومنكر أكبر من عبادة غير الله؟! ومن منع حقوق عباد الله أو سرقتها بالمكاييل والموازين؟! وهو -عليه الصلاة والسلام- الحليم الرشيد. السعدي:387. السؤال: ذُكِر في الآية مقصد من مقاصد الصلاة، بيِّن ذلك.