پردہ گرتا ہے اور یہ خوش کن اور دلربا منظر آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ سیاق کلام پر خاموشی طاری ہوجاتی ہے۔ لازمی ہے کہ حکم باری کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی خاموش ہوگئے ہوں گے۔ لیکن اچانک آنکھوں کے سامنے ایک دوسرا منظر آجاتا ہے جو ہاو و ہو سے پر ہے۔ اردن کے ایک شہر میں قوم لوط (علیہ السلام) سامنے آتی ہے۔ یہ شہر عموریہ اور صدوم ہیں :