Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Fatir 35:8

35:8
افمن زين له سوء عمله فراه حسنا فان الله يضل من يشاء ويهدي من يشاء فلا تذهب نفسك عليهم حسرات ان الله عليم بما يصنعون ٨
أَفَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ فَرَءَاهُ حَسَنًۭا ۖ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۖ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَٰتٍ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا يَصْنَعُونَ ٨
أَفَمَن
زُيِّنَ
لَهُۥ
سُوٓءُ
عَمَلِهِۦ
فَرَءَاهُ
حَسَنٗاۖ
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
يُضِلُّ
مَن
يَشَآءُ
وَيَهۡدِي
مَن
يَشَآءُۖ
فَلَا
تَذۡهَبۡ
نَفۡسُكَ
عَلَيۡهِمۡ
حَسَرَٰتٍۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَلِيمُۢ
بِمَا
يَصۡنَعُونَ
٨
Lẽ nào một kẻ coi hành động tội lỗi của y đẹp mắt đối với y và y cho đó là điều tốt (lại ngang bằng với một người coi sự chỉ đạo của Allah là chân lý) ư? Quả thật, Allah muốn làm cho kẻ nào lầm lạc là tùy ý Ngài và Ngài muốn hướng dẫn ai cũng tùy ý Ngài. Do đó, Ngươi (hỡi Thiên Sứ) chớ vì đau buồn cho bọn họ mà khiến thân xác mình hao gầy. Quả thật, Allah hằng biết về những điều họ làm.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 35:7 đến 35:8
شیطان کے تابعداروں کی جگہ جہنم ٭٭

اوپر بیان گزرا تھا کہ شیطان کے تابعداروں کی جگہ جہنم ہے۔ اس لیے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ کفار کے لیے سخت عذاب ہے۔ اس لیے کہ یہ شیطان کے تابع اور رحمان کے نافرمان ہیں۔ مومنوں سے جو گناہ بھی ہو جائیں بہت ممکن ہے کہ اللہ انہیں معاف فرما دے اور جو نیکیاں ان کی ہیں ان پر انہیں بڑا بھاری اجر و ثواب ملے گا، کافر اور بدکار لوگ اپنی بد اعمالیوں کو نیکیاں سمجھ بیٹھے ہیں تو ایسے گمراہ لوگوں پر تیرا کیا بس ہے؟ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ ہے۔ پس تجھے ان پر غمگین نہ ہونا چاہیئے۔ مقدرات اللہ جاری ہو چکے ہیں۔ مصلحت مالک الملوک کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہدایت و ضلالت میں بھی اس کی حکمت ہے کوئی کام اس سچے حکیم کا حکمت سے خالی نہیں۔ لوگوں کے تمام افعال اس پر واضح ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا پس جس پر وہ نور پڑ گیا وہ دنیا میں آ کر سیدھی راہ چلا اور جسے اس دن وہ نور نہ ملا وہ دنیا میں آ کر بھی ہدایت سے بہرہ ورہ نہ ہو سکا اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل کر خشک ہو گیا۔ [مسند احمد::176/2حسن] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏ اور روایت میں ہے کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا اللہ کے لیے ہر تعریف ہے جو گمراہی سے ہدایت پر لاتا ہے اور جس پر چاہتا ہے گمراہی خلط ملط کر دیتا ہے [طبرانی کبیر:220/5،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏ یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔

صفحہ نمبر7246