Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tazkir ul Quran Tefsir: Al-Qasas Ayah 62

28:62
ويوم يناديهم فيقول اين شركايي الذين كنتم تزعمون ٦٢
وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ٦٢
وَيَوۡمَﱥ
يُنَادِيهِمۡﱦ
فَيَقُولُﱧ
أَيۡنَﱨ
شُرَكَآءِيَﱩ
ٱلَّذِينَﱪ
كُنتُمۡﱫ
تَزۡعُمُونَﱬ
٦٢ﱭ
Allah, o gün onlara seslenir: "Benim ortağım olduklarını iddia ettikleriniz nerededirler?" der.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
28:62 ile 28:63 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

یہاں ’’شریک‘‘ سے مراد گمراہ لیڈر ہیں۔ یعنی وہ بڑے لوگ جن کی بات لوگوں نے اس طرح مانی جس طرح خدا کی بات ماننی چاہيے۔ قیامت میں جب ان بڑوں کا ساتھ دینے والے لوگ اپنا برا انجام دیکھیں گے تو ان کاعجیب حال ہوگا۔ وہ پائیں گے کہ جن بڑوں سے وابستہ ہونے پر وہ فخر کرتے تھے، ان بڑوں نے انھیں صرف جہنم تک پہنچایا ہے۔ اس وقت وہ بے زار ہو کر ان سے کہیں گے کہ ہماری بربادی کے ذمہ دار تم ہو۔ ان کے بڑے جواب دیں گے کہ تمھاری اپنی ذات کے سوا کوئی تمھاری بربادی کا ذمہ دار نہیں۔ اگر چہ بظاہر تم ہمارے کہنے پر چلے مگر ہمارا ساتھ تم نے ا س ليے دیا کہ ہماری بات تمھاری خواہشات کے مطابق تھی، تم در حقیقت اپنی خواہشات کے پیرو تھے، نہ کہ ہمارے پیرو۔ ہم بھی اپنی خواہشات پر چلے اور تم بھی اپنی خواہشات پر چلے۔ اب دونوں کو ایک ہی انجام بھگتنا ہے۔ ایک دوسرے کو برا کہنے سے کوئی فائدہ نہیں۔