Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Fi Zilal al-Quran Тафсир: Taha Ая 98

20:98
انما الاهكم الله الذي لا الاه الا هو وسع كل شيء علما ٩٨
إِنَّمَآ إِلَـٰهُكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ وَسِعَ كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًۭا ٩٨
إِنَّمَآﳏ
إِلَٰهُكُمُﳐ
ٱللَّهُﳑ
ٱلَّذِيﳒ
لَآﳓ
إِلَٰهَﳔ
إِلَّاﳕ
هُوَۚﳖﳗ
وَسِعَﳘ
كُلَّﳙ
شَيۡءٍﳚ
عِلۡمٗاﳛ
٩٨ﳜ
Вашим Богом является Аллах, кроме Которого нет иного божества. Он объемлет знанием всякую вещь».
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис

اسلامی عقیدے کے بارے میں اس وضاحت کے ساتھ ہی اس سورة میں قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ حصہ اب ختم ہوتا ہے۔ اس قصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ حاملین دعوت اسلامی پر اللہ کی رحمتوں کی بارش ہر طرف سے ہوتی ہے۔ اگرچہ ابتداء میں ان سے کوئی غلطی بھی ہوجائے۔ اس کے بعد اس قصے کے دوسرے مراحل کو یہاں ترک کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ بنی اسرائیل نافرمانیاں کرتی ہیں ، اور ان پر ایک کے بعد ایک عذاب آتا ہے۔ چونکہ یہاں رحمت اور مہربانی اور نوازشات کا موضوع ہے اور یہ رحمتیں اللہ کے نیک بندوں پر ہوتی ہیں ، اسلئے اس قصے کی وہ کڑیاں جن میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا تذکرہ آتا ہے ، ان کا ذکر چونکہ موضوع و مضمون اور سورة کی فضا کے خلاف ہے اس لئے ان کو یہاں حذف کر کے اس قصہ کو یہاں ختم کردیا گیا ہے۔