Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren
12:23
وراودته التي هو في بيتها عن نفسه وغلقت الابواب وقالت هيت لك قال معاذ الله انه ربي احسن مثواي انه لا يفلح الظالمون ٢٣
وَرَٰوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِى بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۚ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ رَبِّىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٢٣
وَرَٰوَدَتۡهُ
ٱلَّتِي
هُوَ
فِي
بَيۡتِهَا
عَن
نَّفۡسِهِۦ
وَغَلَّقَتِ
ٱلۡأَبۡوَٰبَ
وَقَالَتۡ
هَيۡتَ
لَكَۚ
قَالَ
مَعَاذَ
ٱللَّهِۖ
إِنَّهُۥ
رَبِّيٓ
أَحۡسَنَ
مَثۡوَايَۖ
إِنَّهُۥ
لَا
يُفۡلِحُ
ٱلظَّٰلِمُونَ
٢٣
En zij in wier huis bij verbleef, probeerde hem te verleiden, tegen zijn wil en zij sloot de deuren en zij zei: "Kom hier." Hij zei: "(ik zoek mijn) toe vlucht bij Allah. Voorwaar, Hij is mijn Heer, (Hij geeft mij) mijn beste plaats. Voorwaar, de onrechtplegers zullen niet slagen."
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 12:23tot 12:24

عزیز مصر کی بیوی زلیخا حضرت یوسف پر فریفتہ ہوگئی۔ وہ بر ابر آپ کو پھسلاتی رہی۔ یہاں تک کہ ایک روز موقع پاکر اس نے کمرہ کا دروازہ بند کرلیا۔

ایک غیر شادی شدہ نوجوان کے لیے یہ بڑا نازک موقع تھا۔ مگر حضرت یوسف نے اپنی فطرت ربّانی کو محفوظ رکھا تھا اور یہ فطرت اس وقت حضرت یوسف کے کام آگئی۔ حق اور ناحق بھلائی اور برائی کو پہچاننے کی یہ طاقت ہر آدمی کے اندر پیدائشی طورپر موجود ہوتی ہے۔ وہ ہر موقع پر انسان کو متنبہ کرتی ہے۔ جو شخص اس کو نظر انداز کردے اس نے گویا خدا کی آواز کو نظر انداز کردیا۔ ایسا آدمی خدا کی مدد سے محروم ہو کر دھیرے دھیرے اپنی فطرت کو کمزور کرلیتاہے۔ اس کے برعکس جو شخص خدائی پکار کے ظاہر ہوتے ہی اس کے آگے جھک جائے، خدا کی مدد اس کی استعداد بڑھاتی رہتی ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ آئندہ زیادہ قوت کے ساتھ برائی کے مقابلہ میں ٹھہر سکے۔

حضرت یوسف کو جس چیز نے برائی سے روکا وہ حقیقۃً اللہ کا ڈر تھا۔ مگر زلیخا کے لیے خدا کا حوالہ دینا اس وقت بے اثر رہتا۔ یہ موقع اعلان حق کا نہیں تھا بلکہ ایک نازک صورت حال سے اپنے آپ کو بچانے کا تھا اسی نزاکت کی بنا پر آپ نے زلیخا کو اس کے شوہر کا حوالہ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ میرا آقا ہے۔ اس نے مجھے نہایت عزت کے ساتھ اپنے گھر میں رکھا ہے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اپنے محسن کے ناموس پر حملہ کروں۔