Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 80

27:80
انك لا تسمع الموتى ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرين ٨٠
إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ ٨٠
إِنَّكَﱙ
لَاﱚ
تُسۡمِعُﱛ
ٱلۡمَوۡتَىٰﱜ
وَلَاﱝ
تُسۡمِعُﱞ
ٱلصُّمَّﱟ
ٱلدُّعَآءَﱠ
إِذَاﱡ
وَلَّوۡاْﱢ
مُدۡبِرِينَﱣ
٨٠ﱤ
Voorwaar, jij bent niet in staat de doden te doen horen en de doven de roep te doen horen wanneer zij de rug toekeren.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 27:76tot 27:81

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو آنکھ، کان اور دماغ کی صلاحیتیں رکھتا ہے۔ ان صلاحیتوں کو اگر کھلے طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ بے خطا طورپر حقیقتوں کو دیکھنے اور پہچاننے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے آپ کو کسی مصنوعی تصور سے مغلوب کرلے تو اس کی ادراک کی صلاحیتیں معطل ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے سامنے حقیقت بے نقاب صورت میں آتی ہے مگر وہ اس سے اس طرح بے خبر رہتا ہے جیسے کہ وہ اندھا بہرا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں اسی شخص کو راستہ دکھایا جاسکتا ہے جو راستہ دیکھنا چاہے۔ جس کے اندر خود راستہ کی تڑپ نہ ہو اس کے ليے کسی رہنما کی رہنمائی کام آنے والی نہیں۔

حق پرست بننے کے ليے سب سے زیادہ جو چیز درکار ہے وہ اعتراف ہے۔ اس دنیا میں اسی شخص کو ہدایت ملتی ہے جس کے اندر یہ مادہ ہو کہ جو بات دلائل سے واضح ہو جائے وہ فوراً اس کو مان لے اور اپنی زندگی کو اس کی ماتحتی میں دے دے۔

جو لوگ خدا کی دعوت کے آگے نہ جھکیں۔ انھیں آخر کار خدا کے فیصلے کے آگے جھکنا پڑتا ہے۔ مگر اس وقت کا جھکنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔