Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Baqarah Ayah 71

2:71
قال انه يقول انها بقرة لا ذلول تثير الارض ولا تسقي الحرث مسلمة لا شية فيها قالوا الان جيت بالحق فذبحوها وما كادوا يفعلون ٧١
قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌۭ لَّا ذَلُولٌۭ تُثِيرُ ٱلْأَرْضَ وَلَا تَسْقِى ٱلْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌۭ لَّا شِيَةَ فِيهَا ۚ قَالُوا۟ ٱلْـَٔـٰنَ جِئْتَ بِٱلْحَقِّ ۚ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا۟ يَفْعَلُونَ ٧١
قَالَﱓ
إِنَّهُۥﱔ
يَقُولُﱕ
إِنَّهَاﱖ
بَقَرَةٞﱗ
لَّاﱘ
ذَلُولٞﱙ
تُثِيرُﱚ
ٱلۡأَرۡضَﱛ
وَلَاﱜ
تَسۡقِيﱝ
ٱلۡحَرۡثَﱞ
مُسَلَّمَةٞﱟ
لَّاﱠ
شِيَةَﱡ
فِيهَاۚﱢﱣ
قَالُواْﱤ
ٱلۡـَٰٔنَﱥ
جِئۡتَﱦ
بِٱلۡحَقِّۚﱧﱨ
فَذَبَحُوهَاﱩ
وَمَاﱪ
كَادُواْﱫ
يَفۡعَلُونَﱬ
٧١ﱭ
Rispose: «Egli dice che deve essere una giovenca che non sia stata soggiogata al lavoro dei campi o all’irrigazione, sana e senza difetti». Dissero: «Ecco, ora ce l’hai descritta esattamente». La sacrificarono, ma mancò poco che non lo facessero!
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 2:67 a 2:73

حضرت موسیٰ کے زمانہ میں بنی اسرائیل میں قتل کا ایک واقعہ ہوا۔ قاتل کا پتہ لگانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کے واسطہ سے ان کو یہ حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کا گوشت مقتول پر مارو، مقتول اللہ کے حکم سے قاتل کا نام بتادے گا۔ یہ ایک معجزاتی تدبیر تھی جو چند مقاصد کے لیے اختیار کی گئی

۱۔ مصر میں لمبی مدت تک قیام کرنے کی وجہ سے بنی اسرائیل مصری تہذیب اور رسوم سے متاثر ہوگئے۔ مصری قوم گائے کو پوجتی تھی۔ چنانچہ مصریوں کے اثر سے بنی اسرائیل میں بھی گائے کے مقدس ہونے کا ذہن پیدا ہوگیا۔ جب مذکورہ واقعہ ہوا تو اللہ نے چاہا کہ اس واقعہ کے ذیل میں ان کے ذہن سے گائے کے تقدس کو توڑا جائے۔ چنانچہ قاتل کا پتہ لگانے کے لیے گائے کے ذبح کی تدبیر اختیار کی گئی۔

۲۔ اسی طرح بنی اسرائیل نے یہ غلطی کی تھی کہ فقہی موشگافی (hair splitting)اور بحث کے نتیجہ میں خدا کے سادہ دین کو ایک بوجھل دین بنا ڈالا تھا۔ چنانچہ مذکورہ واقعہ کے ذیل میں ان کو یہ سبق دیاگیا کہ اللہ کی طرف سے جو حکم آئے اس کو سادہ معنوں میں لے کر فوراً اس کی تعمیل میں لگ جاؤ۔ کھو دکرید کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا کہ حکم کی تفصیلات جاننے اور اس کے حدود متعین کرنے کے لیے موشگافیاںکرنے لگے توتم سخت آزمائش میں پڑ جاؤ گے۔ اس طرح ایک سادہ حکم شرائط کا اضافہ ہوتے ہوتے ایک سخت حکم بن جائے گا جس کی تعمیل تمھارے لیے بے حد مشکل ہو۔

۳۔ اس واقعہ کے ذریعہ انسانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ دوسری زندگی اسی طرح ایک ممکن زندگی ہے جیسے پہلی زندگی۔ اللہ ہر آدمی کو مرنے کے بعد زندہ کردے گا اور اس کو دوبارہ ایک نئی دنیا میں اٹھائے گا۔