وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Hajj ۴۱:۲۲

۴۱:۲۲
الذين ان مكناهم في الارض اقاموا الصلاة واتوا الزكاة وامروا بالمعروف ونهوا عن المنكر ولله عاقبة الامور ٤١
ٱلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّـٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ أَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَمَرُوا۟ بِٱلْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا۟ عَنِ ٱلْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلْأُمُورِ ٤١
ٱلَّذِينَ
إِن
مَّكَّنَّٰهُمۡ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
أَقَامُواْ
ٱلصَّلَوٰةَ
وَءَاتَوُاْ
ٱلزَّكَوٰةَ
وَأَمَرُواْ
بِٱلۡمَعۡرُوفِ
وَنَهَوۡاْ
عَنِ
ٱلۡمُنكَرِۗ
وَلِلَّهِ
عَٰقِبَةُ
ٱلۡأُمُورِ
٤١
(همان) کسانی‌که اگر در زمین به آن‌ها قدرت (و حکومت) بخشیم، نماز را بر پا می‌دارند، و زکات را می‌دهند، و امر به معروف و نهی از منکر می‌کنند، و سرانجام کارها از آن الله است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
پابندی احکامات کی تاکید ٭٭

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ آیت ہمارے بارے میں اتری ہے۔ ہم بےسبب خارج ازوطن کئے گئے تھے، پھر ہمیں اللہ نے سلطنت دی، ہم نے نماز و روزہ کی پابندی کی بھلے احکام دئیے اور برائی سے روکنا جاری کیا۔ پس یہ آیت میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں ہے۔‏“

ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‏“

خلیفہ رسول عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے خطبے میں اس آیت «الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ» [22-الحج:41] ‏ کی تلاوت فرما کر فرمایا ”اس میں بادشاہوں کا بیان ہی نہیں بلکہ بادشاہ رعایا دونوں کا بیان ہے۔ بادشاہ پر تو یہ ہے کہ حقوق الٰہی تم سے برابر لے اللہ کے حق کی کوتاہی کے بارے میں تمہیں پکڑے اور ایک کا حق دوسرے سے دلوائے اور جہاں تک ممکن ہو تمہیں صراط مستقیم سمجھاتا رہے۔ تم پر اس کا یہ حق ہے کہ ظاہر وباطن خوشی خوشی اس کی اطاعت گزاری کرو۔‏“

عطیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی آیت کامضمون آیت «وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ» [24-النور:55] ‏ میں ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ «وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [28-القص:83] ‏ عمدہ نتیجہ پرہیزگاروں کا ہو گا۔ ہرنیکی کا بدلہ اسی کے ہاں ہے۔

صفحہ نمبر5627