وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Baqarah ۴۹:۲

۴۹:۲
واذ نجيناكم من ال فرعون يسومونكم سوء العذاب يذبحون ابناءكم ويستحيون نساءكم وفي ذالكم بلاء من ربكم عظيم ٤٩
وَإِذْ نَجَّيْنَـٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ ٤٩
وَإِذۡﱁ
نَجَّيۡنَٰكُمﱂ
مِّنۡﱃ
ءَالِﱄ
فِرۡعَوۡنَﱅ
يَسُومُونَكُمۡﱆ
سُوٓءَﱇ
ٱلۡعَذَابِﱈ
يُذَبِّحُونَﱉ
أَبۡنَآءَكُمۡﱊ
وَيَسۡتَحۡيُونَﱋ
نِسَآءَكُمۡۚﱌﱍ
وَفِيﱎ
ذَٰلِكُمﱏ
بَلَآءٞﱐ
مِّنﱑ
رَّبِّكُمۡﱒ
عَظِيمٞﱓ
٤٩ﱔ
و (نیز به یاد آورید) هنگامی‌که شما را از چنگال فرعونیان نجات دادیم، (آنان) شما را به بدترین صورت آزار و شکنجه می‌دادند، پسران شما را سر می‌بریدند، و زنان شما را زنده نگه می‌داشتند، و در این‌ها آزمایش بزرگی از جانب پروردگارتان برای شما بود.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 2:47 تا 2:57

بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا پر فضیلت دی تھی۔ یعنی ان کو اپنے اس خاص کام کے لیے چنا تھا کہ ان کے پاس اپنی وحی بھیجے اور ان کے ذریعہ دوسری قوموں کو اپنی مرضی سے باخبر کرے۔ پھر اس منصب کی نسبت سے ان کو اور بہت سی نعمتیں اور سہولتیں دی گئیں ۔ اپنے دشمنوں پر غلبہ، وقتی لغزشوں سے در گزر، غیر معمولی حالات میں غیر معمولی نصرت اور ’’خداوند کی طرف سے ان کے لیے روٹی کا انتظام‘‘ وغیرہ۔ اس سے ان کی بعد کی نسلیں اس غلط فہمی میں پڑ گئیں کہ ہم اللہ کی خاص امت ہیں ۔ ہم ہر حال میں آخرت کی کامیابی حاصل کریں گے۔ مگر خدا کے اس قسم کے معاملات کسی کے لیے موروثي نہیں ہوتے۔ کسی گروہ کے اگلے لوگوں کا فیصلہ ان کے پچھلے لوگوں کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر فرد کا الگ الگ ہوتا ہے۔ خدا کے انصاف کا دن اتنا سخت ہوگا کہ وہاں اپنے عمل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز کسی کے کام آنے والی نہیں ۔

سچی دین داری یہ ہے کہ آدمی اللہ کے سوا کسی کومعبود نہ بنائے۔ اللہ کو دیکھے بغیر اللہ پر یقین کرے۔ آخرت کے حساب سے ڈر کر زندگی گزارے۔ پاک روزی سے اپنی ضروریات پوری کرے۔ جن لوگوں پر اس کو اختیار حاصل ہے ان کو جرم کرنے سے روک دے۔