Sign in
Sign in
Sign in
Select Language
38:26
يا داوود انا جعلناك خليفة في الارض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى فيضلك عن سبيل الله ان الذين يضلون عن سبيل الله لهم عذاب شديد بما نسوا يوم الحساب ٢٦
يَـٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلْنَـٰكَ خَلِيفَةًۭ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱحْكُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌۭ شَدِيدٌۢ بِمَا نَسُوا۟ يَوْمَ ٱلْحِسَابِ ٢٦
يَٰدَاوُۥدُ
إِنَّا
جَعَلۡنَٰكَ
خَلِيفَةٗ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
فَٱحۡكُم
بَيۡنَ
ٱلنَّاسِ
بِٱلۡحَقِّ
وَلَا
تَتَّبِعِ
ٱلۡهَوَىٰ
فَيُضِلَّكَ
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِۚ
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
يَضِلُّونَ
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
لَهُمۡ
عَذَابٞ
شَدِيدُۢ
بِمَا
نَسُواْ
يَوۡمَ
ٱلۡحِسَابِ
٢٦
˹We instructed him:˺ “O David! We have surely made you an authority in the land, so judge between people with truth. And do not follow ˹your˺ desires or they will lead you astray from Allah’s Way. Surely those who go astray from Allah’s Way will suffer a severe punishment for neglecting the Day of Reckoning.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
صاحب اختیار لوگوں کے لئے انصاف کا حکم ٭٭

اس آیت میں بادشاہ اور ذی اختیار لوگوں کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ قرآن و حدیث کے مطابق فیصلے کریں ورنہ اللہ کی راہ سے بھٹک جائیں گے اور جو بھٹک کر اپنے حساب کے دن کو بھول جائے وہ سخت عذابوں میں مبتلا ہو گا۔ حضعر ابوزرعہ رحمتہ اللہ علیہ سے بادشاہ وقت ولید بن عبدالملک نے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ کیا خلیفہ وقت سے بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں حساب لیا جائے گا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سچ بتا دوں خلیفہ نے کہا ضرور سچ ہی بتاؤ اور آپ کو ہر طرح امن ہے۔ فرمایا اے امیر المؤمنین اللہ کے نزدیک آپ سے بہت بڑا درجہ داؤد علیہ السلام کا تھا انہیں خلافت کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے نبوت بھی دے رکھی تھی لیکن اس کے باوجود کتاب اللہ ان سے کہتی ہے «‏يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاس بالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ» [ 38- ص: 26 ] ‏ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے یوم الحساب کو سخت عذاب ہیں اس کے بھول جانے کے باعث حضرت سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہیں اس وجہ سے کہ انہوں نے یوم الحساب کے لیے اعمال جمع نہیں کئے۔ آیت کے لفظوں سے اسی قول کو زیادہ مناسبت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7696