Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Baqarah Ayah 57

2:57
وظللنا عليكم الغمام وانزلنا عليكم المن والسلوى كلوا من طيبات ما رزقناكم وما ظلمونا ولاكن كانوا انفسهم يظلمون ٥٧
وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا رَزَقْنَـٰكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ٥٧
وَظَلَّلۡنَاﲱ
عَلَيۡكُمُﲲ
ٱلۡغَمَامَﲳ
وَأَنزَلۡنَاﲴ
عَلَيۡكُمُﲵ
ٱلۡمَنَّﲶ
وَٱلسَّلۡوَىٰۖﲷﲸ
كُلُواْﲹ
مِنﲺ
طَيِّبَٰتِﲻ
مَاﲼ
رَزَقۡنَٰكُمۡۚﲽﲾ
وَمَاﲿ
ظَلَمُونَاﳀ
وَلَٰكِنﳁ
كَانُوٓاْﳂ
أَنفُسَهُمۡﳃ
يَظۡلِمُونَﳄ
٥٧ﳅ
And ˹remember when˺ We shaded you with clouds and sent down to you manna and quails,1 ˹saying˺, “Eat from the good things We have provided for you.” The evildoers ˹certainly˺ did not wrong Us, but wronged themselves.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 2:47 to 2:57

بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا پر فضیلت دی تھی۔ یعنی ان کو اپنے اس خاص کام کے لیے چنا تھا کہ ان کے پاس اپنی وحی بھیجے اور ان کے ذریعہ دوسری قوموں کو اپنی مرضی سے باخبر کرے۔ پھر اس منصب کی نسبت سے ان کو اور بہت سی نعمتیں اور سہولتیں دی گئیں ۔ اپنے دشمنوں پر غلبہ، وقتی لغزشوں سے در گزر، غیر معمولی حالات میں غیر معمولی نصرت اور ’’خداوند کی طرف سے ان کے لیے روٹی کا انتظام‘‘ وغیرہ۔ اس سے ان کی بعد کی نسلیں اس غلط فہمی میں پڑ گئیں کہ ہم اللہ کی خاص امت ہیں ۔ ہم ہر حال میں آخرت کی کامیابی حاصل کریں گے۔ مگر خدا کے اس قسم کے معاملات کسی کے لیے موروثي نہیں ہوتے۔ کسی گروہ کے اگلے لوگوں کا فیصلہ ان کے پچھلے لوگوں کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر فرد کا الگ الگ ہوتا ہے۔ خدا کے انصاف کا دن اتنا سخت ہوگا کہ وہاں اپنے عمل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز کسی کے کام آنے والی نہیں ۔

سچی دین داری یہ ہے کہ آدمی اللہ کے سوا کسی کومعبود نہ بنائے۔ اللہ کو دیکھے بغیر اللہ پر یقین کرے۔ آخرت کے حساب سے ڈر کر زندگی گزارے۔ پاک روزی سے اپنی ضروریات پوری کرے۔ جن لوگوں پر اس کو اختیار حاصل ہے ان کو جرم کرنے سے روک دے۔