Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 89

27:89
من جاء بالحسنة فله خير منها وهم من فزع يوميذ امنون ٨٩
مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْرٌۭ مِّنْهَا وَهُم مِّن فَزَعٍۢ يَوْمَئِذٍ ءَامِنُونَ ٨٩
مَنﱁ
جَآءَﱂ
بِٱلۡحَسَنَةِﱃ
فَلَهُۥﱄ
خَيۡرٞﱅ
مِّنۡهَاﱆ
وَهُمﱇ
مِّنﱈ
فَزَعٖﱉ
يَوۡمَئِذٍﱊ
ءَامِنُونَﱋ
٨٩ﱌ
Whoever comes with a good deed will be rewarded with what is better, and they will be secure from the horror on that Day.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 27:87 to 27:90

موجودہ دنیا میں انکار کا اصل سبب انسان کی بے خوفی ہے۔ یہ دراصل بے خوفی کی نفسیات ہے جس کی وجہ سے آدمی حق کو نظر انداز کرتاہے اور اس کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ مگر جب امتحان کی مدت ختم ہوگی اور اس کی علامت کے طورپر صور پھونک دیا جائے گا تو اچانک لو گ محسوس کریں گے کہ ان کی بے خوفی محض بے خبری کی بناپر تھی۔ اس دن تمام بڑائیاں ریت کی دیوار کی طرح ڈھ جائیں گی۔ یہ ایسا سخت لمحہ ہوگا کہ انسان تو درکنار پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ اس وقت سارا عجز ایک طرف ہوجائے گا اور ساری قدرت دوسری طرف۔

اس دن وہ تمام چیزیں بالکل غیر اہم ہوجائیں گی جن کو لوگ دنیا میں اہم سمجھے ہوئے تھے۔ اس دن سارا وزن صرف عمل صالح میں ہوگا۔ اس دن کھونے والے پائیں گے اور پانے والے ابدی طورپر محروم ہو کر رہ جائیں گے۔