Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Bayan ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 45

27:45
ولقد ارسلنا الى ثمود اخاهم صالحا ان اعبدوا الله فاذا هم فريقان يختصمون ٤٥
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَـٰلِحًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ ٤٥
وَلَقَدۡﱁ
أَرۡسَلۡنَآﱂ
إِلَىٰﱃ
ثَمُودَﱄ
أَخَاهُمۡﱅ
صَٰلِحًاﱆ
أَنِﱇ
ٱعۡبُدُواْﱈ
ٱللَّهَﱉ
فَإِذَاﱊ
هُمۡﱋ
فَرِيقَانِﱌ
يَخۡتَصِمُونَﱍ
٤٥ﱎ
And We certainly sent to the people of Thamûd their brother Ṣâliḥ, proclaiming, “Worship Allah,” but they suddenly split into two opposing groups.1
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 27:44 to 27:45

قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ ط ”یعنی وہ شیشے کا چکنا فرش تھا اور ملکہ نے جب اس میں اپنا عکس دیکھاتو اسے پانی سمجھ کر پنڈلیوں سے کپڑا اوپر اٹھا لیا کہ شاید آگے جانے کے لیے اس پانی سے ہو کر گزرنا ہے۔ بہر حال حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے اصل حقیقت سے آگاہ کیا۔ اس سے دراصل اسے احساس دلانا مقصود تھا کہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے رکھی ہیں ‘ وہ تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہیں۔قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ”حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ یہاں پر اختتام پذیر ہوا۔ سورت کا یہ حصہ قصص النبییّن کے انداز میں ہے۔ اس کے بعد حضرت صالح اور حضرت لوط علیہ السلام کے واقعات میں انباء الرسل کا انداز پایا جاتا ہے۔