Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Taha Ayah 85

20:85
قال فانا قد فتنا قومك من بعدك واضلهم السامري ٨٥
قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنۢ بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ ٱلسَّامِرِىُّ ٨٥
قَالَﲠ
فَإِنَّاﲡ
قَدۡﲢ
فَتَنَّاﲣ
قَوۡمَكَﲤ
مِنۢﲥ
بَعۡدِكَﲦ
وَأَضَلَّهُمُﲧ
ٱلسَّامِرِيُّﲨ
٨٥ﲩ
Allah responded, “We have indeed tested your people in your absence, and the Sâmiri1 has led them astray.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 20:83 to 20:85

مصرسے نکلنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے لیے ایک تاریخ مقرر کی کہ اس روز وہ کوہِ طور کے اسی دامن میں دوبارہ آئیں جہاں انھیں ابتداء ً پیغمبری ملی تھی۔ یہاں حضرت موسیٰ کو تورات لینے کے ليے اپنی پوری قوم کے ساتھ پہنچنا تھا۔ مگر فرط شوق میں وہ تیزی سے روانہ ہو کر مقررہ تاریخ سے کچھ دن پہلے مقام موعود پر آگئے۔ اور قوم کو پیچھے چھوڑ دیا۔ قوم سے حضرت موسیٰ کی علیحدگی قوم کے ليے فتنہ بن گئی۔قوم میں بعض مشرکانہ ذہنیت کے لوگ تھے۔ سامری ان کا لیڈر تھا۔ ان لوگوں نے حضرت موسیٰ کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا کر قوم کو بہکایا اور اس کو بچھڑے کی پرستش میں مبتلا کردیا جیسا کہ مصر میں اس زمانہ میں ہوتا تھا۔