Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Taha Ayah 80

20:80
يا بني اسراييل قد انجيناكم من عدوكم وواعدناكم جانب الطور الايمن ونزلنا عليكم المن والسلوى ٨٠
يَـٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ قَدْ أَنجَيْنَـٰكُم مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوَٰعَدْنَـٰكُمْ جَانِبَ ٱلطُّورِ ٱلْأَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ٨٠
يَٰبَنِيٓﱣ
إِسۡرَٰٓءِيلَﱤ
قَدۡﱥ
أَنجَيۡنَٰكُمﱦ
مِّنۡﱧ
عَدُوِّكُمۡﱨ
وَوَٰعَدۡنَٰكُمۡﱩ
جَانِبَﱪ
ٱلطُّورِﱫ
ٱلۡأَيۡمَنَﱬ
وَنَزَّلۡنَاﱭ
عَلَيۡكُمُﱮ
ٱلۡمَنَّﱯ
وَٱلسَّلۡوَىٰﱰ
٨٠ﱱ
O Children of Israel! We saved you from your enemy, and made an appointment with you1 on the right side of Mount Ṭûr, and sent down to you manna and quails,2
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 20:80 to 20:82

خلیج کو پارکرنے کے بعد حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھی چلتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ صحرائے سینا میں پہنچ گئے۔ اس کے بعد کوہ طور کے دامن میں بلا کر خاص اہتمام سے ان کو شریعت عطا کی گئی۔ یہ لوگ چالیس سال تک صحرائے سینا میں رہے۔ یہاں ان کے لیے خصوصی نعمت کے طورپر پانی اور غذا (من وسلویٰ) کا انتظام کیا گيا، جو اس وقت تک مسلسل جاری رہا جب کہ ان کی اگلی نسل فلسطین کے سرسبز علاقہ میں پہنچ گئی۔

اللہ تعالیٰ کے اوپر بندوں کا یہ حق ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے بندوں کے ليے رزق فراہم کرے۔ اور بندوں کے اوپر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ کسی حال میں اس کے ساتھ سرکشی نہ کریں۔ جو لوگ خدا کی نعمتوں کے شکر گزار بن کررہیں ان کے لیے خدا کی مزید رحمتیں ہیں۔ اور جو لوگ سرکش بن جائیں ان کے لیے خدا کا شدید عذاب ہے، جو کبھی ختم نہ ہوگا۔