Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Yusuf Ayah 20

12:20
وشروه بثمن بخس دراهم معدودة وكانوا فيه من الزاهدين ٢٠
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍۢ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍۢ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ ٢٠
وَشَرَوۡهُﲗ
بِثَمَنِۭﲘ
بَخۡسٖﲙ
دَرَٰهِمَﲚ
مَعۡدُودَةٖﲛ
وَكَانُواْﲜ
فِيهِﲝ
مِنَﲞ
ٱلزَّٰهِدِينَﲟ
٢٠ﲠ
They ˹later˺ sold him for a cheap price, just a few silver coins—only wanting to get rid of him.1 
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 12:19 to 12:20

حضرت یوسف کے بھائی جب آپ کو اندھے کنویں میں ڈال کر چلے گئے تو تین دن بعد ایک تجارتی قافلہ ادھر سے گزرا جو مدین سے مصر جارہا تھا۔ قافلہ کے ایک آدمی نے پانی کی خاطر کنویں میں ڈول ڈالا تو حضرت یوسف (جو اس وقت تقریباً 16 سال کے تھے) ڈول پکڑ کر باہر آگئے۔

یہ بردہ فروشی کا زمانہ تھا۔ اس لیے قافلہ والے خوش ہوئے کہ وہ مصر لے جاکر لڑکے کو فروخت کرسکیں گے۔ چنانچہ جب وہ مصر پہنچے تو اپنے دیگر سامانوں کے ساتھ حضرت یوسف کو بھی بازار میں رکھا۔ وہاں ایک آدمی نے ہونہار لڑکا دیکھ کر آپ کو بیس درہم میں خرید لیا۔

حضرت یوسف کے بھائی آپ کو بے وطن کرکے کنویں میں ڈال چکے تھے۔ قافلہ والوں نے غلام کی حیثیت سے فروخت کردیا۔ اس کے بعد مصر کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کی بیوی (زلیخا) نے آپ کو قید خانہ میں قید کرادیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان تمام مراحل کو آپ کے لیے عزّت و سربلندی تک پہنچنے کا زینہ بنا دیا — کس قدر فرق ہے علم انسانی میںاور علم خداوندی میں۔