登入
登入
登入
选择语言

经注: Az-Zumar 39:24

39:24
افمن يتقي بوجهه سوء العذاب يوم القيامة وقيل للظالمين ذوقوا ما كنتم تكسبون ٢٤
أَفَمَن يَتَّقِى بِوَجْهِهِۦ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ وَقِيلَ لِلظَّـٰلِمِينَ ذُوقُوا۟ مَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ ٢٤
أَفَمَن
يَتَّقِي
بِوَجۡهِهِۦ
سُوٓءَ
ٱلۡعَذَابِ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِۚ
وَقِيلَ
لِلظَّٰلِمِينَ
ذُوقُواْ
مَا
كُنتُمۡ
تَكۡسِبُونَ
٢٤
复活日以面部防御严刑的人,象不受刑罚者吗?或者将对不义者说:你们尝试你们所获的果报吧!
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
39:24至39:26节的经注
روزِ قیامت کا احوال ٭٭

ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن و امان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہو سکتے ہیں؟ جیسے فرمایا «أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [67-الملك:22] ‏ ” اوندھے منہ، منہ کے بل چلنے والا اور راست قامت اپنے پیروں سیدھی راہ چلتے والا برابر نہیں “۔ «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» ‏ [54-القمر:48] ‏ ” ان کفار کو تو قیامت کے دن اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو “۔

ایک اور آیت میں ہے «أَفَمَن يُلْقَىٰ فِي النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِي آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [41-فصلت:40] ‏ ” جہنم میں داخل کیا جانے والا بدنصیب اچھا یا امن و امان سے قیامت کا دن گذارنے والا اچھا؟ “ یہاں اس آیت کا مطلب یہی ہے لیکن ایک قسم کا ذکر کر کے دوسری قسم کے بیان کو چھوڑ دیا کیونکہ اسی سے وہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے یہ بات شعراء کے کلام میں برابر پائی جاتی ہے۔

اگلے لوگوں نے بھی اللہ کی باتوں کو نہ مانا تھا اور رسولوں کو جھوٹا کہا تھا پھر دیکھو کہ ان پر کس طرح ان کی بے خبری میں مار پڑی؟ عذاب اللہ نے انہیں دنیا میں بھی ذلیل و خوار کیا اور آخرت کے سخت عذاب بھی ان کے لیے باقی ہیں۔ ” پس تمہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ اشرف رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے اور نہ ماننے کی وجہ سے تم پر کہیں ان سے بھی بدتر عذاب برس نہ پڑیں۔ تم اگر ذی علم ہو تو ان کے حالات اور تذکرے تمہاری نصیحت کے لیے کافی ہیں “۔

صفحہ نمبر7809