登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: An-Naml 阿雅 91

27:91
انما امرت ان اعبد رب هاذه البلدة الذي حرمها وله كل شيء وامرت ان اكون من المسلمين ٩١
إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ ٱلْبَلْدَةِ ٱلَّذِى حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَىْءٍۢ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ ٩١
إِنَّمَآﱛ
أُمِرۡتُﱜ
أَنۡﱝ
أَعۡبُدَﱞ
رَبَّﱟ
هَٰذِهِﱠ
ٱلۡبَلۡدَةِﱡ
ٱلَّذِيﱢ
حَرَّمَهَاﱣ
وَلَهُۥﱤ
كُلُّﱥ
شَيۡءٖۖﱦﱧ
وَأُمِرۡتُﱨ
أَنۡﱩ
أَكُونَﱪ
مِنَﱫ
ٱلۡمُسۡلِمِينَﱬ
٩١ﱭ
(你说):我只奉命崇拜这城市的主,他曾以这城市为禁地。万物都是他所有的。我亦奉命做一个归顺的人,
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
27:91至27:93节的经注

اس شہر (مکہ) کا حوالہ قرآن کے مخاطب اول کی رعایت سے ہے۔ تاہم یہ ایک اسلوب کلام کی بات ہے۔ آیت کا اصل مدعا انسان کو اس ابدی حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ اُس کے ليے ایک ہی صحیح رویہ ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ ایک خدا کا عبادت گزار بنے۔

داعی کا کام ’’سنانا‘‘ ہے، یعنی امر حق کا اعلان۔ آدمی کو داعی کی لفظی پکار میں معنوی حقیقت کا ادراک کرنا ہے۔ بے زور دعوت میں خدائی طاقت کا جلوہ دیکھنا ہے۔ جو لوگ اس صلاحیت کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے ابدی انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔

’’خدا اپنی نشانیاں دکھائے گا‘‘— اس پیشین گوئی کا ایک پہلو قرآن کے مخاطب اول (قریش مکہ) سے تعلق رکھتا ہے جن کو دور اول میں جنگ بدر اور فتح مکہ کی صورت میں خدا کی نشانیاں دکھائی گئیں۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق قرآن کی ابدیت سے ہے۔ اس دوسرے اعتبار سے موجودہ زمانہ میں ظاہر ہونے والی سائنسی نشانیاں بھی اس غیر معمولی پیشین گوئی کے وسیع تر مصداق میں شامل ہیں۔