登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: An-Naml 阿雅 90

27:90
ومن جاء بالسيية فكبت وجوههم في النار هل تجزون الا ما كنتم تعملون ٩٠
وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِى ٱلنَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٩٠
وَمَنﱍ
جَآءَﱎ
بِٱلسَّيِّئَةِﱏ
فَكُبَّتۡﱐ
وُجُوهُهُمۡﱑ
فِيﱒ
ٱلنَّارِﱓ
هَلۡﱔ
تُجۡزَوۡنَﱕ
إِلَّاﱖ
مَاﱗ
كُنتُمۡﱘ
تَعۡمَلُونَﱙ
٩٠ﱚ
做恶的人,将匍匐着投入火狱:你们只受你们的行为的报酬。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
27:87至27:90节的经注

موجودہ دنیا میں انکار کا اصل سبب انسان کی بے خوفی ہے۔ یہ دراصل بے خوفی کی نفسیات ہے جس کی وجہ سے آدمی حق کو نظر انداز کرتاہے اور اس کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ مگر جب امتحان کی مدت ختم ہوگی اور اس کی علامت کے طورپر صور پھونک دیا جائے گا تو اچانک لو گ محسوس کریں گے کہ ان کی بے خوفی محض بے خبری کی بناپر تھی۔ اس دن تمام بڑائیاں ریت کی دیوار کی طرح ڈھ جائیں گی۔ یہ ایسا سخت لمحہ ہوگا کہ انسان تو درکنار پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ اس وقت سارا عجز ایک طرف ہوجائے گا اور ساری قدرت دوسری طرف۔

اس دن وہ تمام چیزیں بالکل غیر اہم ہوجائیں گی جن کو لوگ دنیا میں اہم سمجھے ہوئے تھے۔ اس دن سارا وزن صرف عمل صالح میں ہوگا۔ اس دن کھونے والے پائیں گے اور پانے والے ابدی طورپر محروم ہو کر رہ جائیں گے۔