登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Sad 阿雅 61

38:61
قالوا ربنا من قدم لنا هاذا فزده عذابا ضعفا في النار ٦١
قَالُوا۟ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًۭا ضِعْفًۭا فِى ٱلنَّارِ ٦١
قَالُواْﳖ
رَبَّنَاﳗ
مَنﳘ
قَدَّمَﳙ
لَنَاﳚ
هَٰذَاﳛ
فَزِدۡهُﳜ
عَذَابٗاﳝ
ضِعۡفٗاﳞ
فِيﳟ
ٱلنَّارِﳠ
٦١ﳡ
他们将说:我们的主啊!谁把我们诱惑到这种境地,求你使谁在火狱中受加倍的刑罚。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
38:55至38:64节的经注

جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔

سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔