登入
登入
登入
选择语言

经注: At-Talaq 65:11

65:11
رسولا يتلو عليكم ايات الله مبينات ليخرج الذين امنوا وعملوا الصالحات من الظلمات الى النور ومن يومن بالله ويعمل صالحا يدخله جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها ابدا قد احسن الله له رزقا ١١
رَّسُولًۭا يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ مُبَيِّنَـٰتٍۢ لِّيُخْرِجَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ مِنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ ۚ وَمَن يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ وَيَعْمَلْ صَـٰلِحًۭا يُدْخِلْهُ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ قَدْ أَحْسَنَ ٱللَّهُ لَهُۥ رِزْقًا ١١
رَّسُولٗا
يَتۡلُواْ
عَلَيۡكُمۡ
ءَايَٰتِ
ٱللَّهِ
مُبَيِّنَٰتٖ
لِّيُخۡرِجَ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
مِنَ
ٱلظُّلُمَٰتِ
إِلَى
ٱلنُّورِۚ
وَمَن
يُؤۡمِنۢ
بِٱللَّهِ
وَيَعۡمَلۡ
صَٰلِحٗا
يُدۡخِلۡهُ
جَنَّٰتٖ
تَجۡرِي
مِن
تَحۡتِهَا
ٱلۡأَنۡهَٰرُ
خَٰلِدِينَ
فِيهَآ
أَبَدٗاۖ
قَدۡ
أَحۡسَنَ
ٱللَّهُ
لَهُۥ
رِزۡقًا
١١
并且派遣一位使者,对你们宣读真主的许多明显的迹象,以便他使信道而且行善的人们,脱离重重黑暗,走入光明。谁信道而且行善,真主将使谁入下临诸河的乐园,而永居其中。真主必定赏赐他们优美的给养。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

رسولا .................... مبینت (56 : 11) ” ایک رسول جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے “۔

یہ نہایت ہی گہرا قابل توجہ نکتہ ہے اور اس کے اوپر کئی دلائل ہیں۔ یہ ذکر جو رسول لوگوں تک پہنچانے کے لئے لائے ہیں وہ رسول اللہ کی شخصیت کے اندر سے وکر ان تک پہنچا ہے۔ آپ صادق وامین تھے اور آپ نے پورا ذکر ان تک پہنچا دیا گویا یہ ذکر خا سے براہ راست ان تک پہنچ گیا۔ اور رسول کی ذات نے اس کا کوئی حصہ چھپایا نہیں تھا۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ آیت ذات رسول کو ذکر بتاتی ہے کہ رسول کی ذات پوری کی پوری ذکر ہوگی۔ رسول گویا مجسمہ ذکر ہیں اور وہ زندہ قرآن ہیں۔ اور حضرت عائشہ ؓ نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ :

کان خلقہ القرآن ” آپ کے اخلاق قرآن تھے “۔ آپ کے دل میں قرآن تھا اور آپ عملی زندگی میں قرآن پیش کرتے تھے۔

ذکر کے علاوہ اہل ایمان کو نور ، ہدایت ، صالحیت اور جنتوں کی نعمتوں کا وعدہ بھی کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ جنتوں میں جو رزق ملیں گے۔ وہ دنیا کے ارزاق کے مقابلے میں بہت ہی مکرم رزق ہیں ، بہت ہی احسن ہیں۔

ایک بار پھر رزق کی بات ہوتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ دنیا کا رزق تو ہر کسی کو ملتا ہے۔ اصل رزق تو رزق آخرت ہے ، جبکہ مومنین کے لئے دنیا میں بھی رزق حسن کا وعدہ ہے۔

اور آخر میں پھر پوری کائنات کا زمزمہ جو بہت ہی محیرالعقول حد تک وسیع ہے۔ یوں اس پوری سورت کے موضوع کو یعنی قوانین طلاق کو ، اللہ کے نظام قضاوقدر اور اس وسیع کائنات میں اللہ کے قانون قدرت کے ساتھ ملادیا جاتا ہے۔