登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Hajj 22:34

22:34
ولكل امة جعلنا منسكا ليذكروا اسم الله على ما رزقهم من بهيمة الانعام فالاهكم الاه واحد فله اسلموا وبشر المخبتين ٣٤
وَلِكُلِّ أُمَّةٍۢ جَعَلْنَا مَنسَكًۭا لِّيَذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلْأَنْعَـٰمِ ۗ فَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ فَلَهُۥٓ أَسْلِمُوا۟ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُخْبِتِينَ ٣٤
وَلِكُلِّ
أُمَّةٖ
جَعَلۡنَا
مَنسَكٗا
لِّيَذۡكُرُواْ
ٱسۡمَ
ٱللَّهِ
عَلَىٰ
مَا
رَزَقَهُم
مِّنۢ
بَهِيمَةِ
ٱلۡأَنۡعَٰمِۗ
فَإِلَٰهُكُمۡ
إِلَٰهٞ
وَٰحِدٞ
فَلَهُۥٓ
أَسۡلِمُواْۗ
وَبَشِّرِ
ٱلۡمُخۡبِتِينَ
٣٤
我为每个民族制定一种供献的仪式, 以便他们记念真主之名而屠宰他所赐他们的牲畜。你们的神明是独一的神明,故你们应当只归顺他。你应当以喜讯传示谦恭者。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
22:34至22:35节的经注

ولکل امۃ ……ینفقون (35)

اسلامی نظام زندگی کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انسان کے احساسات اور اس کے رجحانتا کو اللہ کی ذات کے ساتھ وابستہ کرتا ہے۔ چناچہ اس کی اسکیم یہ ہے کہ شعور ، عمل ، سرگرمی ، عبادت ، ہر حرکت اور ہر عادت کو ایک نئی سمت دی جائے اور ہر چیز کو اسلام نظریہ حیات کے رنگ میں رنگ دیا جائے ۔ اس نقطہ نظر سے اسلام نے ان مذبوحہ جانوروں کو حرام قرار دے دیا ہے جن پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور یہ لازم کردیا کہ ذبیحوں پر اللہ کا نام لیا جائے بلکہ عین ذبح کے وقت اونچی آواز سے اللہ اکبر کہا جائے ، گویا جانور ذبح ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس طرح اللہ کا نام لیا جائے۔

ولکل امۃ جعلنا مسکا لیذکروا اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام (22 : 33) ” ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کردیا ہے تاکہ اس امت کے لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔ “

اس کے بعد عقیدہ توحید کی تصریح آتی ہے۔

فالھکم الہ واحد (22 : 33) ”(مقصد صرف یہ ہے) کہ تمہارا ایک ہی خدا ہعے “۔ جب خدا ایک ہے تو ہر معاملہ میں اطاعت بھی اسی ایک کی ہونی چاہئے۔

فلہ اسلموا (22 : 33) ’ دپس اس کے مطیع فرمان بنو۔ “ یہ اطاعت جبر کی اطاعت نہیں ہے اور نہ اسلام میں کوئی جبر ہے ، بلکہ دل کی آمادگی سے سر تسلیم خم کرنا مقصود ہے۔

وبشر المخبتین (22 : 33) الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم (22 : 35)

” اے نبی ﷺ بشارت دے دو عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں کو ، جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ “ محض اللہ کا نام سنتے ہی ان کے شعور اور ان کے ضمیر میں اللہ کا خوف پیدا ہوجاتا ہے اور وہ کانپ اٹھتے ہیں۔

والصبرین علی ما اصابھم (22 : 35) ” جو مصیبت بھی ان پر آتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں۔ “ لہٰذا اللہ ان کے بارے میں جو فیصلہ کرے ان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

والمقیمی الصلوۃ (22 : 35) ” اور نماز قائم کرتے ہیں۔ “ اور اللہ کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح عبادت کرنے کا حق ہوتا ہے۔

ومما رزقنھم ینفقون (22 : 35) ” اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ “ وہ اپنے مال میں اللہ کے مقابلے میں بخل نہیں کرتے۔

یوں عقیدے ، نظریات اور دین کے بنیادی شعائر کے اندر ربط پیدا کر کے ذات باری کو ہر چیز کا محور بنا دیا جاتا ہے۔ اور اس طرح اسلامی نظام کا یہ جزء خصوصاً عبادات اس کے عقائد و نظریات کا مظہر اور رمز بن جاتی ہیں۔ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی پوری زندگی میں اس کے عقیدے کا رنگ ہو ، اس طرح ان کی قوت عمل اور ان کی سمت کے درمیان کوئی تضاد نہ ہو اور نفس انسانی شعور انسانی اور عمل انسانی کے درمیان کوئی تضاد اور کوئی کشمکش نہ ہو۔

اب سیاق کلام ذرا مزید آگے جاتا ہے اور اس مفہوم کو مزید تاکیدی انداز میں یوں پیش کیا جاتا ہے کہ محض کھانے پینے کے لئے ذبح کئے جانے والے جانوروں کے اس شعار اور عمل میں بھی اصل روح وہی ہے۔