登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Al-Qasas 阿雅 5

28:5
ونريد ان نمن على الذين استضعفوا في الارض ونجعلهم ايمة ونجعلهم الوارثين ٥
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةًۭ وَنَجْعَلَهُمُ ٱلْوَٰرِثِينَ ٥
وَنُرِيدُﲳ
أَنﲴ
نَّمُنَّﲵ
عَلَىﲶ
ٱلَّذِينَﲷ
ٱسۡتُضۡعِفُواْﲸ
فِيﲹ
ٱلۡأَرۡضِﲺ
وَنَجۡعَلَهُمۡﲻ
أَئِمَّةٗﲼ
وَنَجۡعَلَهُمُﲽ
ٱلۡوَٰرِثِينَﲾ
٥ﲿ
我要把恩典赏赐给大地上受欺负的人,我要以他们为表率,我要以他们为继承者,
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
28:1至28:6节的经注

فرعون کو یہاں فساد فی الارض کا مجرم بتایا گیاہے۔ فرعون کا فساد یہ تھا کہ اس نے مصر کی دو قوموں میں امتیاز کیا۔ قبطی قوم جو اس کی اپنی قوم تھی، اس کو اس نے ہر قسم کے مواقع دئے، اور بنی اسرائیل کو نہ صرف مواقع سے محروم کیا بلکہ ان کے نومولود لڑکوں کو قتل کرنا شروع کیا۔ تاکہ دھیرے دھیرے ان کی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ فرعون کا یہ عمل فطرت کے نظام میں مداخلت تھا۔ خدا کے قانون میں، نظام فطرت سے مطابقت کا نام اصلاح ہے اور نظام فطرت میں مداخلت کا نام فساد۔

عزت اور بے عزتی کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ خدا نے اس کے برعکس فیصلہ کیا جو فرعون نے فیصلہ کیا تھا۔ خدا نے فیصلہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو عزت اور اقتدار دے اور فرعون کو اس کی فوجوں کے ساتھ ہلاک کردے۔ حضرت موسیٰ کے ذریعہ اتمام حجت کے بعد فرعون نے اپنے کو مستحق عذاب ثابت کردیا۔ چنانچہ خدا نے اس کو سمندر میں ڈبا کر ہمیشہ کے ليے اس کا خاتمہ کر دیا۔ اور بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاکر شام و فلسطین کا حکمراں بنا دیا۔