登入
登入
登入
选择语言

经注: At-Tur 52:33

52:33
ام يقولون تقوله بل لا يومنون ٣٣
أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُۥ ۚ بَل لَّا يُؤْمِنُونَ ٣٣
أَمۡ
يَقُولُونَ
تَقَوَّلَهُۥۚ
بَل
لَّا
يُؤۡمِنُونَ
٣٣
难道他们说他曾捏造他吗?不然,其实是他们不归信。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
52:29至52:34节的经注

جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔

مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔