登入
登入
登入
选择语言

经注: Hud 11:78

11:78
وجاءه قومه يهرعون اليه ومن قبل كانوا يعملون السييات قال يا قوم هاولاء بناتي هن اطهر لكم فاتقوا الله ولا تخزون في ضيفي اليس منكم رجل رشيد ٧٨
وَجَآءَهُۥ قَوْمُهُۥ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ هَـٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِى هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِى ضَيْفِىٓ ۖ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌۭ رَّشِيدٌۭ ٧٨
وَجَآءَهُۥ
قَوۡمُهُۥ
يُهۡرَعُونَ
إِلَيۡهِ
وَمِن
قَبۡلُ
كَانُواْ
يَعۡمَلُونَ
ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ
قَالَ
يَٰقَوۡمِ
هَٰٓؤُلَآءِ
بَنَاتِي
هُنَّ
أَطۡهَرُ
لَكُمۡۖ
فَٱتَّقُواْ
ٱللَّهَ
وَلَا
تُخۡزُونِ
فِي
ضَيۡفِيٓۖ
أَلَيۡسَ
مِنكُمۡ
رَجُلٞ
رَّشِيدٞ
٧٨
他的宗族仓猝地到他的家里来,他们向来是作恶的。他说:我的宗族啊!这些是我的女儿,她们对于你们是更纯洁的。你们应当敬畏真主,你们对于我的客人们不要使我丢脸。难道你们当中没有一个精神健全的人吗?
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

(يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ ) یعنی اس طرح دوڑے جس طرح بخار میں مبتلا شخص کانپتے ہوئے دوڑتا ہے۔ بےچینی سے ، ہرع بخار کی حالت میں کانپنا۔

اس سے قبل ان کے ہاں مہمانوں کے ساتھ بد سلوکی عام تھی۔ اس لیے حضرت لوط (علیہ السلام) ان فرشتوں کے بارے میں سخت دل تنگ ہوئے اور اس دن کو مصیبت کے دن سے تعبیر کیا۔

حضرت لوط (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ لوگ بدکاری کے لیے اس طرح بےاختیار دوڑے چلے آتے ہیں جس طرح بخار میں مبتلا شخص بےاختیار کانپتا ہے اور ان کے مہمانوں کی توہین پر تلے ہوئے ہیں تو انہوں نے ان کی ذات کے اندرموجود فطرت سلیمہ کو اپیل کی۔ ان کو متوجہ کیا کہ دیکھو عورتیں موجود ہیں جن کو اللہ نے اسی مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ خود حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں لڑکیاں موجود تھیں اور وہ اسی وقت جائز طریقوں سے ان کے جوش لذت کو تسکین دے سکتی تھیں۔ جن کو اسی مقصد کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔ وہ اسی وقت ان کو نکاح کر کے ان کے حوالے کرنے کے لیے تیار تھے تا کہ وہ ان کی جنونی شہوت رانی کے لیے سکون کا سامان فراہم کریں۔

قَالَ يَا قَوْمِ هَؤُلاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلا تُخْزُونِي فِي ضَيْفِي أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ (11 : 78) ۔ لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا ، “ بھائیو ، یہ میری بیٹیاں موجود ہیں ، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں۔ کچھ خدا کا خوف کرو اور میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں ؟ ”

هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ (78 : 11) “ وہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں ”۔ یعنی وہ ہر لحاظ سے پاکیزہ ہیں۔ نفسیاتی اعتبار سے پاکیزہ ، حسی اعتبار سے پاکیزہ اور اخلاقی اعتبار سے پاکیزہ ہیں۔ وہ پاک فطرت ہیں اور پاک جذبات کی تسکین کے لیے تیار ہیں۔ ان کے اخلاق اور ان کا دین پاکیزہ ہے اور قدرت نے بھی انہیں اس پاک اور عظیم مقصد کے لیے تیار کیا ہے اور یہ راستہ بھی بمقابلہ اس راہ کے جو وہ اختیار کر رہے ہیں پاکیزہ ہے۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ (87 : 11) “ پس اللہ سے ڈرو ” پہلے فقرے میں ان کو سمجھایا گیا کہ فطری طور پر پاکیزہ راہ اختیار کرو ، یہاں کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو اور اس غلط روش سے باز آجاؤ ”

وَلا تُخْزُونِي فِي ضَيْفِي (87 : 11) “ اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ ” یہ فقرہ ان کے جذبہ انسانی غیرت کو بیدار کرنے کے لیے کہا گیا اور دیہاتی لوگ مہمان کا عموماً خیال رکھتے ہیں اور مہمانوں کی توہین کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔

أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ (11 : 78) “ کیا تم میں سے کوئی بھلا آدمی نہیں ہے۔ ” یہ معاملہ بھی ہدایت ، نیکی اور بھلائی کا ہے۔ نیز فطرت اور مروت اور اخلاق کا بھی یہی تقاضا ہے۔ لیکن یہ تمام اپیلیں بد فطرت لوگوں پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔ اس لیے کہ ان لوگوں کے دل منحرف ہوگئے تھے۔ ان کی عقل ماؤف ہوگئی تھی اور ان کا ناقابل مثال شہوانی جوش ان پر غالب تھا۔