登入
登入
登入
选择语言

经注: Ash-Shuraa 42:47

42:47
استجيبوا لربكم من قبل ان ياتي يوم لا مرد له من الله ما لكم من ملجا يوميذ وما لكم من نكير ٤٧
ٱسْتَجِيبُوا۟ لِرَبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌۭ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ ۚ مَا لَكُم مِّن مَّلْجَإٍۢ يَوْمَئِذٍۢ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٍۢ ٤٧
ٱسۡتَجِيبُواْ
لِرَبِّكُم
مِّن
قَبۡلِ
أَن
يَأۡتِيَ
يَوۡمٞ
لَّا
مَرَدَّ
لَهُۥ
مِنَ
ٱللَّهِۚ
مَا
لَكُم
مِّن
مَّلۡجَإٖ
يَوۡمَئِذٖ
وَمَا
لَكُم
مِّن
نَّكِيرٖ
٤٧
在不可抗拒之日,从真主降临以前,你们应当应答你们的主。在那日,你们绝没有逃避的地方,也绝不能抵赖。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

آیت 47 { اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ } ”اے اہل ِایمان ! اپنے رب کی پکار پر لبیک کہو ‘ اس سے پہلے کہ اللہ کے حکم سے وہ دن آجائے جسے لوٹایا نہ جاسکے گا۔“ یہ اسی ”استجابت“ کا ذکر ہے جس کے بارے میں قبل ازیں ہم آیت 38 میں پڑھ چکے ہیں۔ وہاں یہ ذکر اصحابِ عزیمت کی مدح کے طور پر آیا تھا ‘ لیکن یہاں اب اس کے لیے ترغیب و تشویق کا انداز ہے کہ اے لوگو ! اب جبکہ تم نے یہ تمام احکام پڑھ لیے ہیں ‘ غلبہ دین کے حوالے سے تم نے اپنے فرائض کو سمجھ لیا ہے ‘ اس ضمن میں اپنے رب کی مرضی و منشا بھی تمہیں معلوم ہوچکی ہے ‘ تو اب آئو ! آگے بڑھو ! اور اپنے رب کی پکار پر فوراً لبیک کہو ! دراصل تم میں سے ہر کسی نے اپنی اپنی زندگی کے لیے بڑے بڑے منصوبے بنا رکھے ہیں۔ چناچہ اگر کسی کو اپنے اس ”فرض“ کی ادائیگی کا احساس ہو بھی جاتا ہے تو بھی اس کا دل انہی منصوبوں میں اٹکا رہتا ہے کہ بس میں یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچا لوں ‘ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو لوں وہ فرض نبھا لوں ‘ تو خو دکودین کے لیے وقف کر دوں گا۔ مگر تم خوب جانتے ہو کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ‘ یہ کسی وقت بھی آسکتی ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ موت تمہارے سامنے آن کھڑی ہو ‘ تم { اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِط } کے حکم پر کان دھرو ! اور اپنے رب کی اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے دوسروں کے قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھو ! اور اپنی مدت مہلت ختم ہونے سے پہلے پہلے کرنے کا یہ اصل کام کرلو ! { مَالَـکُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّمَا لَـکُمْ مِّنْ نَّکِیْرٍ } ”نہیں ہوگی تمہارے لیے اس دن کوئی جائے پناہ اور نہیں ہوگا تمہارے لیے کوئی موقع انکار۔“ یعنی تم اپنے کرتوتوں میں سے کسی کا انکار نہیں کرسکو گے۔ ان الفاظ کا یہ مفہوم بھی ہے کہ جو کچھ بھی تمہارے ساتھ کیا جائے گا تم اس پر نہ تو کوئی احتجاج کرسکو گے اور نہ ہی اپنی حالت کو تبدیل کرنا تمہارے بس میں ہوگا۔