登入
登入
登入
选择语言

经注: Yusuf 12:87

12:87
يا بني اذهبوا فتحسسوا من يوسف واخيه ولا تياسوا من روح الله انه لا يياس من روح الله الا القوم الكافرون ٨٧
يَـٰبَنِىَّ ٱذْهَبُوا۟ فَتَحَسَّسُوا۟ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَا۟يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَا۟يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ ٨٧
يَٰبَنِيَّ
ٱذۡهَبُواْ
فَتَحَسَّسُواْ
مِن
يُوسُفَ
وَأَخِيهِ
وَلَا
تَاْيۡـَٔسُواْ
مِن
رَّوۡحِ
ٱللَّهِۖ
إِنَّهُۥ
لَا
يَاْيۡـَٔسُ
مِن
رَّوۡحِ
ٱللَّهِ
إِلَّا
ٱلۡقَوۡمُ
ٱلۡكَٰفِرُونَ
٨٧
他说:我的孩子们!你们去打听优素福和他弟弟的消息吧。你们不要绝望于真主的慈恩,只有不信道的人们才绝望于真主的慈恩。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
12:87至12:88节的经注
باب

حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کو حکم فرما رہے ہیں کہ تم ادھر ادھر جاؤ اور یوسف علیہ السلام اور بنیامین کی تلاش کرو۔ عربی میں «‏تَحَسُّ» کا لفظ بھلائی کی جستجو کے لیے بولا جاتا ہے اور برائی کی ٹٹول کے لئے «‏تَجَسّسُ» کا لفظ بولا جاتا ہے۔ ساتھ میں فرماتے ہیں کہ اللہ کی ذات سے مایوس نہ ہونا چاہیئے اس کی رحمت سے مایوس وہی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں کفر ہوتا ہے۔ تم تلاش بند نہ کرو، اللہ سے نیک امید رکھو اور اپنی کوشش جاری رکھو۔

چنانچہ یہ لوگ چلے، پھر مصر پہنچے، یوسف علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوئے، وہاں اپنی خستہ حالی ظاہر کی کہ قحط سالی نے ہمارے خاندان کو ستا رکھا ہے، ہمارے پاس کچھ نہیں رہا، جس سے غلہ خریدتے اب ردی، واہی، ناقص، بیکار، کھوٹی اور قیمت نہ بننے والی کچھ یونہی سی رکھی رکھائی چیزیں لے کر آپ کے پاس آئے ہیں گویہ بدلہ نہیں کہا جا سکتا نہ قیمت بنتی ہے لیکن تاہم ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں وہی دیجئیے جو سچی صحیح اور پوری قیمت پر دیا کرتے ہیں۔ ہمارے بوجھ بھر دیجئیے، ہماری خورجیاں پر کر دیجئیے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ» کے بدلے «‏فَأَوْقِرْ رِكَابنَا وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا» ہے یعنی ہمارے اونٹ غلے سے لاد دیجئیے۔ اور ہم پر صدقہ کیجئے ہمارے بھائی کو رہائی دیجئیے، یا یہ مطلب ہے کہ یہ غلہ ہمیں ہمارے اس مال کے بدلے نہیں بلکہ بطور خیرات دیجئیے۔

صفحہ نمبر4065

حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی کسی نبی پر صدقہ حرام ہوا ہے؟ تو آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھ کر استدلال کیا کہ نہیں ہوا۔ مجاہد رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا کسی شخص کا اپنی دعا میں یہ کہنا مکروہ ہے کہ یا اللہ مجھ پر صدقہ کر۔ فرمایا ہاں اس لیے کہ صدقہ وہ کرتا ہے جو طالب ثواب ہو۔

صفحہ نمبر4066