登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Yusuf 阿雅 86

12:86
قال انما اشكو بثي وحزني الى الله واعلم من الله ما لا تعلمون ٨٦
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٨٦
قَالَﳇ
إِنَّمَآﳈ
أَشۡكُواْﳉ
بَثِّيﳊ
وَحُزۡنِيٓﳋ
إِلَىﳌ
ٱللَّهِﳍ
وَأَعۡلَمُﳎ
مِنَﳏ
ٱللَّهِﳐ
مَاﳑ
لَاﳒ
تَعۡلَمُونَﳓ
٨٦ﳔ
他说:我只向真主诉说我的忧伤,我从真主那里知道你们所不知道的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
12:83至12:87节的经注

’’تم نے بات بنالی ہے‘‘ کہہ کر حضرت یعقوب نے برادران یوسف کے دل کا کھوٹ واضح کیا۔ وہ باپ کے یہاں سے گئے تو مکمل حفاظت کا وعدہ کرکے اس کو ساتھ لے گئے۔ اور جب بن یامین کے اسباب میں سے پیالہ برآمد ہوا تو اس کی طرف سے اتنی مدافعت بھی نہ کرسکے کہ یہ کہتے کہ محض پیالہ برآمد ہونے سے وہ چور کیسے ثابت ہوگیا۔ شاید کسی اور نے رکھ دیا ہو یا کسی غلطی سے وہ اس کے اسباب کے ساتھ بندھ گیا ہو۔ اس کے برعکس، انھوںنے یہ کیا کہ یہ کہہ کر اس کے جرم کو مصریوں کی نظر میں اور پختہ کردیا کہ اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے۔

حضرت یعقوب اگرچہ دو عزیز بیٹوں کو کھونے کی وجہ سے بے حد غم زدہ تھے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خدا سے اس کی رحمت کی امید بھی لگائے ہوئے تھے۔ ان کا اب بھی یہ خیال تھا کہ یوسف کا ابتدائی زمانہ کا خواب ایک خدائی بشارت تھا اور وہ ضرور پورا ہوگا۔ اسی لیے انھوں نے بیٹوں سے کہا کہ جاؤیوسف کو تلاش کرو اور بن یامین کی رہائی کی بھي کوشش کرو۔