登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Yusuf 阿雅 42

12:42
وقال للذي ظن انه ناج منهما اذكرني عند ربك فانساه الشيطان ذكر ربه فلبث في السجن بضع سنين ٤٢
وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍۢ مِّنْهُمَا ٱذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيْطَـٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ ٤٢
وَقَالَﲡ
لِلَّذِيﲢ
ظَنَّﲣ
أَنَّهُۥﲤ
نَاجٖﲥ
مِّنۡهُمَاﲦ
ٱذۡكُرۡنِيﲧ
عِندَﲨ
رَبِّكَﲩ
فَأَنسَىٰهُﲪ
ٱلشَّيۡطَٰنُﲫ
ذِكۡرَﲬ
رَبِّهِۦﲭ
فَلَبِثَﲮ
فِيﲯ
ٱلسِّجۡنِﲰ
بِضۡعَﲱ
سِنِينَﲲ
٤٢ﲳ
他对两人中预料将会获释的人说:请你在你主人面前替我申冤。但恶魔使他忘记在他主人面前替优素福申冤,以至他在监里坐了几年。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
12:41至12:42节的经注

دو نوجوان جو جیل میں لائے گئے وہ شاہ مصر (ریان بن الولید) کے ساقی اور خبّاز تھے۔ دونوں پر یہ الزام تھاکہ انھوں نے بادشاہ کے کھانے میں زہر ملانے کی کوشش کی۔ ان میں سے جو ساقی تھا وہ تحقیق کے بعد الزام سے بری ثابت ہوا اور رہائی پاکر دوبارہ بادشاہ کا ساقی مقرر ہوا۔ اس کے خواب کامطلب یہ تھا کہ اب وہ بادشاہ کو خواب میں شراب پلا رہا ہے کچھ دن بعدوہ بیداری میں اس کو شراب پلائے گا۔ خبّاز پر الزام ثابت ہوگیا۔ اس کو سولی دے کر چھوڑ دیاگیا کہ چڑیاں اس کا گوشت کھائیں اور وہ لوگوں کے لیے عبرت ہو۔

حضرت یوسف کی دونوں تعبیریں بالکل درست ثابت ہوئیں۔ مگر ساقی قید سے چھوٹ کر دوبارہ محل میں پہنچا تو وہ حسبِ وعدہ بادشاہ سے حضرت یوسف کا ذکر کرنا بھول گیا۔ اس کو اپنا کیا ہوا وعدہ صرف اس وقت یاد آیا جب کہ بادشاہ نے ایک خواب دیکھا اور درباریوں سے کہا کہ اس کی تعبیر بتاؤ۔