登入
登入
登入
选择语言

Bayan ul Quran 经注: Yusuf 阿雅 38

12:38
واتبعت ملة ابايي ابراهيم واسحاق ويعقوب ما كان لنا ان نشرك بالله من شيء ذالك من فضل الله علينا وعلى الناس ولاكن اكثر الناس لا يشكرون ٣٨
وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ ٣٨
وَٱتَّبَعۡتُﱁ
مِلَّةَﱂ
ءَابَآءِيٓﱃ
إِبۡرَٰهِيمَﱄ
وَإِسۡحَٰقَﱅ
وَيَعۡقُوبَۚﱆﱇ
مَاﱈ
كَانَﱉ
لَنَآﱊ
أَنﱋ
نُّشۡرِكَﱌ
بِٱللَّهِﱍ
مِنﱎ
شَيۡءٖۚﱏﱐ
ذَٰلِكَﱑ
مِنﱒ
فَضۡلِﱓ
ٱللَّهِﱔ
عَلَيۡنَاﱕ
وَعَلَىﱖ
ٱلنَّاسِﱗ
وَلَٰكِنَّﱘ
أَكۡثَرَﱙ
ٱلنَّاسِﱚ
لَاﱛ
يَشۡكُرُونَﱜ
٣٨ﱝ
我遵循我的祖先--易卜拉欣、易司哈格、叶尔孤白的宗教。我们不该以任何物配真主,这是真主施于我们和世人的恩惠,但世人大半不感谢。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
12:38至12:39节的经注

آیت 38 وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَاۗءِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ آپ کی اس بات سے موروثی اور شعوری عقائد کا فرق سمجھ میں آتا ہے۔ یعنی ایک تو وہ عقائد و نظریات ہیں جو بچہ اپنے والدین سے اپناتا ہے ‘ جیسے ایک مسلمان گھرانے میں بچے کو موروثی طور پر اسلام کے عقائد ملتے ہیں۔ اللہ اور رسول کا نام وہ بچپن ہی سے جانتا ہے ‘ ابتدائی کلمے اس کو پڑھا دیے جاتے ہیں ‘ نماز بھی سکھا دی جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنے آزادانہ انتخاب کے نتیجے میں اپنے علم اور غور و فکر سے کوئی عقیدہ اختیار کرے گا تو وہ اس کا شعوری عقیدہ ہوگا۔ چناچہ حضرت یوسف نے اپنے اس شعوری عقیدے کا ذکر کیا کہ اگرچہ وہ جن لوگوں کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں وہ اللہ اس کے کسی نبی اور وحی وغیرہ کے تصورات سے نابلد ہیں ‘ سب کے سب کافر اور مشرک ہیں مگر مجھے دیکھو میں نے اس ماحول کا اثر قبول نہیں کیا اپنے ارد گرد کے لوگوں کے نظریات و عقائد نہیں اپنائے بلکہ پورے شعور کے ساتھ اپنے آباء و اَجداد کے نظریات کو صحیح مانتے ہوئے ان کی پیروی کر رہا ہوں صرف اس لیے نہیں کہ وہ میرے آباء و اَجداد تھے ‘ بلکہ اس لیے کہ یہی راستہ میرے نزدیک معقول اور عقل سلیم کے قریب تر ہے۔ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَيْنَا وَعَلَي النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ یعنی شرک سے بچنے اور توحید کو اپنانے کا عقیدہ دراصل اللہ کا اپنے بندوں پر بہت بڑا فضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اس حیثیت میں انسان کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں کی پرستش کرتا پھرے جنہیں خود اس کی خدمت اور استفادے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔