登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Yusuf 阿雅 26

12:26
قال هي راودتني عن نفسي وشهد شاهد من اهلها ان كان قميصه قد من قبل فصدقت وهو من الكاذبين ٢٦
قَالَ هِىَ رَٰوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى ۚ وَشَهِدَ شَاهِدٌۭ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍۢ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ ٢٦
قَالَﲌ
هِيَﲍ
رَٰوَدَتۡنِيﲎ
عَنﲏ
نَّفۡسِيۚﲐﲑ
وَشَهِدَﲒ
شَاهِدٞﲓ
مِّنۡﲔ
أَهۡلِهَآﲕ
إِنﲖ
كَانَﲗ
قَمِيصُهُۥﲘ
قُدَّﲙ
مِنﲚ
قُبُلٖﲛ
فَصَدَقَتۡﲜ
وَهُوَﲝ
مِنَﲞ
ٱلۡكَٰذِبِينَﲟ
٢٦ﲠ
他说:是她勾引我。她家里的一个人作证说:如果他的衬衣是从前面撕破 的,那她说的是实话,而他是说谎的;
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
12:25至12:29节的经注

حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے دروازے کی طرف بھاگے۔ زلیخا بھی ان کے پیچھے دوڑی اور پیچھے سے آپ کا کرتا پکڑ لیا۔ کھینچ تان میں پیچھے کا دامن پھٹ گیا۔ تاہم حضرت یوسف دروزاہ کھول کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ دروازہ کے باہر اتفاق سے زلیخا کا شوہر موجود تھا۔ اس کو دیکھتے ہی زلیخا نے سارا الزام حضرت یوسف پر ڈال دیا۔ ایک لمحہ پہلے وہ جس شخص سے اظہار محبت کررہی تھی، ایک لمحہ بعد اس پر جھوٹا الزام لگانے لگی۔

حضرت یوسف نے بتایا کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ غلطی کس کی ہے۔ کوئی تیسرا شخص موقع پر موجود نہیں تھا جو عینی گواہی دے۔ اس وقت گھر کے ایک مرد دانا نے لوگوں کو رہنمائی دی۔ اغلب ہے کہ یہ شخص پہلے حالات سے باخبر تھا۔ نیز اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ یوسف کا کرتا آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے پھٹا ہوا ہے۔ مگر اس نے اپنی بات کو ایسے انداز میں کہا گویا کہ وہ لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ جب عینی شہادت موجود نہیں ہے تو قرینہ کی شہادت (circumstantial evidence)دیکھ کر فیصلہ کرلو۔ اور قرینہ کی شہادت یہ تھی کہ حضرت یوسف کا کُرتا پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا تھا۔ یہ واضح طورپر اس کا ثبوت تھا کہ اس معاملہ میں اقدام زلیخا کی طرف سے ہوا ہے، نہ کہ یوسف کی طرف سے۔