登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Anbiya 21:95

21:95
وحرام على قرية اهلكناها انهم لا يرجعون ٩٥
وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـٰهَآ أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ٩٥
وَحَرَٰمٌ
عَلَىٰ
قَرۡيَةٍ
أَهۡلَكۡنَٰهَآ
أَنَّهُمۡ
لَا
يَرۡجِعُونَ
٩٥
我所毁灭的市镇,想复返人世,那是不可能的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

وحرم علی قریۃ اھلکنھا انھم لایرجعون (21 : 95) ” اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا وہ پلٹ کر نہ آئے گی۔ “

یہاں ہلاک شدہ بستیوں کا ذکر فرمایا جاتا ہے ، خصوصیت کے ساتھ ، اس لئے کہ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ

کل الینارجعون (21 : 93) ” سب ہماری طرف پلٹ کر آنے والے ہیں۔ “ بعض اوقات ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ جن بستیوں کو دنیا میں ہلاک کردیا گیا ہے شاید وہ ہمیشہ کے لئے ختم کردی گئیں اور وہ پلٹ کر نہ آئیں گی اور ان کا حساب و کتاب ختم ہوگیا اس لئے یہاں دوبارہ تاکید کی جاتی ہے کہ یہ بستیاں ضرور واپس لوٹ کر قیامت میں آئیں گی اور نہ ان کا آنا حرام ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہلاک شدہ بستیاں نہ آئیں۔ یہ انداز کلام ذرا عجیب و غریب ہے۔ اس لئے بعض مفسرین نے یہ تاویل کی ہے کہ ” لا “ یہاں زائد ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب ان بستیوں کو نابود کردیا گیا تو پھر وہ واپس نہیں آسکتیں۔ بعض نے یہ تاویل کی ہے کہ اس ہلاکت کے بعد ان کا رجوع ہدایت کی طرف نہیں ہوسکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں تاویلوں کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ نص قرآنی کی وہی تفسیر بہتر ہے جو اس کی ظاہری ترکیب کے مطابق ہو اور سیاق کلام میں اس مفہوم کے لئے قرینہ بھی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔

اس کے بعد مناظر قیامت میں سے ایک منظر کو یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر کا آغاز اس علامت سے کیا جاتا ہے کہ جس کا ظہور قرب قیامت کے زمانے میں ہوگا۔ وہ ہے یا جوج اور ماجوج کا کھل کر ٹوٹ پڑنا۔