登入
登入
登入
选择语言

经注: Ali 'Imran 3:110

3:110
كنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتومنون بالله ولو امن اهل الكتاب لكان خيرا لهم منهم المومنون واكثرهم الفاسقون ١١٠
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ ۗ وَلَوْ ءَامَنَ أَهْلُ ٱلْكِتَـٰبِ لَكَانَ خَيْرًۭا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ ١١٠
كُنتُمۡ
خَيۡرَ
أُمَّةٍ
أُخۡرِجَتۡ
لِلنَّاسِ
تَأۡمُرُونَ
بِٱلۡمَعۡرُوفِ
وَتَنۡهَوۡنَ
عَنِ
ٱلۡمُنكَرِ
وَتُؤۡمِنُونَ
بِٱللَّهِۗ
وَلَوۡ
ءَامَنَ
أَهۡلُ
ٱلۡكِتَٰبِ
لَكَانَ
خَيۡرٗا
لَّهُمۚ
مِّنۡهُمُ
ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
وَأَكۡثَرُهُمُ
ٱلۡفَٰسِقُونَ
١١٠
你们是为世人而被产生的最优秀的民族,你们劝善戒恶,确信真主。假若信奉天经的人确信正道,那对于他们是更好的。他们中有一部分是信士,大部分是罪人。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

آیت 110 کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ یہاں امت مسلمہ کی غرض تأسیس بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی یہ پوری امت مسلمہ اس مقصد کے لیے بنائی گئی تھی۔ یہ دوسری بات ہے کہ امت مسلمہ اپنا مقصد حیات بھول جائے۔ ایسی صورت میں امت میں سے جو بھی جاگ جائیں وہ دوسروں کو جگا کرامت کے اندر ایک امت Ummah within Ummah بنائیں اور مذکورہ بالا تین کام کریں۔ لیکن حقیقت میں تو مجموعی طور پر اس امت مسلمہ کا فرض منصبی ہی یہی ہے۔ قبل ازیں ہم سورة البقرۃ کی آیت 143 میں امت مسلمہ کا فرض منصبی بایں الفاظ پڑھ چکے ہیں : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ط سورة آل عمران کی آیت زیر مطالعہ اسی کے ہم وزن اور ہم پلہ آیت ہے۔ فرمایا : تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے۔ دنیا کی دیگر قومیں اپنے لیے زندہ رہتی ہیں۔ ان کے پیش نظر اپنی ترقی ‘ اپنی بہتری ‘ اپنی بہبود اور دنیا میں اپنی عزت و عظمت ہوتی ہے ‘ لیکن تم وہ بہترین امت ہو جسے لوگوں کی راہنمائی کے لیے مبعوث کیا گیا ہے : ؂ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہے کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہے !مسلمان کی زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانا اور لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی ‘ کوشش کرنا ہے۔ تمہیں جینا ہے ان کے لیے ‘ وہ جیتے ہیں اپنے لیے۔ تمہیں نکالا گیا ہے ‘ برپا کیا گیا ہے لوگوں کے لیے۔تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِِ ط نبی اکرم ﷺ کے دور میں پوری امت مسلمہ کی یہ کیفیت تھی۔ اور وہ جو پہلے بتایا گیا ہے کہ ایک جماعت وجود میں آئے آیت 104 وہ اس وقت کے لیے ہے جب امت اپنے مقصد وجود کو بھول گئی ہو۔ تو ظاہر بات ہے جن کو ہوش آجائے وہ لوگوں کو جگائیں اور ایک جمعیت فراہم کریں۔وَلَوْ اٰمَنَ اَہْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ ط اس سے مراد وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو اس وقت تک یہودیوں یا نصرانیوں میں سے ایمان لا چکے تھے ‘ اور وہ بھی جن کے اندر بالقوہ potentially ایمان موجود تھا اور اللہ کو معلوم تھا کہ وہ کچھ عرصہ کے بعد ایمان لے آئیں گے۔وَاَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔وہی معاملہ جو آج امت مسلمہ کا ہوچکا ہے۔ آج امت کی اکثریت کا جو حال ہے وہ سب کو معلوم ہے۔