登入
登入
登入
选择语言

经注: An-Nisa 4:30

4:30
ومن يفعل ذالك عدوانا وظلما فسوف نصليه نارا وكان ذالك على الله يسيرا ٣٠
وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَٰنًۭا وَظُلْمًۭا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًۭا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًا ٣٠
وَمَن
يَفۡعَلۡ
ذَٰلِكَ
عُدۡوَٰنٗا
وَظُلۡمٗا
فَسَوۡفَ
نُصۡلِيهِ
نَارٗاۚ
وَكَانَ
ذَٰلِكَ
عَلَى
ٱللَّهِ
يَسِيرًا
٣٠
谁为过分和不义而犯此严禁,我要把谁投入火狱,这对于真主是容易的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

(آیت) ” ومن یفعل ذلک عدوانا وظلما فسوف نصلیہ نارا وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ (4 : 30) ”

” جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ “

اسلامی نظام حیات نفس انسانی کو اس کے ایک وسیع دائرے تک لے جاتا ہے یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دونوں جہانوں کو پیش نظر رکھ کر اس کے لئے ضابطہ بندی کی جاتی ہے اور اسے ہدایات دی جاتی ہیں ۔ نفس انسانی کے اندر ایک بیدار اور محتاط چوکیدار بٹھایا جاتا ہے جو ہر ہدایت کو بسروچشم قبول کرتا ہے اور ہر اسلامی قانون کو بطیب خاطر نافذ کرتا ہے ۔ پھر اسلامی سوسائٹی میں بھی ہر شخص کو دوسرے کے لئے نگران بنایا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اجتماعی طور پر بھی مسئول ہیں ۔ اگر ظلم ہوگا تو سوسائٹی کے تمام افراد گویا قتل ہوں گے اور ان پر تباہی آئے گی ، یعنی اس دنیا میں اور آخرت میں تمام ان لوگوں سے محاسبہ ہوگا جنہوں نے اپنی سوسائٹی کو ظالمانہ روش پر رہنے دیا اور اس کے باطل طور طریقوں کے بدلنے کے لئے جدوجہد نہ کی ۔ (آیت) ” وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ (4 : 30) ”

” اور یہ اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے “۔ اسے دنیاوی تباہی لانے اور آخری محاسبہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ نہ اس کی راہ میں کوئی حائل ہو سکتا ہے اور جب تباہی کے اسباب مہیا ہوجائیں تو اللہ کی سنت یہی ہے کہ پھر وہ آکر رہتی ہے ۔

لیکن اگر تم لوگ ممنوعات میں سے بڑی بڑی ممنوعہ چیزوں سے اجتناب کرو ‘ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کے اموال کو ظالمانہ طریقے سے کھانا اور ان کا استحصال کرنا چھوڑ دو ‘ تو اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت تمہارے شامل حال رہے گی ۔ تمہارے ساتھ نرم سلوک کیا جائے گا تمہارے دلوں کے اطمینان کے لئے اور آگ سے تمہیں بچانے کے لئے تمہارے وہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے جو کبائر نہیں ہیں بشرطیکہ تم ارتکاب ظلم اور ارتکاب فواحش سے اجتناب کرو۔