登入
登入
登入
选择语言

经注: Ash-Shu'ara 26:127

26:127
وما اسالكم عليه من اجر ان اجري الا على رب العالمين ١٢٧
وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٢٧
وَمَآ
أَسۡـَٔلُكُمۡ
عَلَيۡهِ
مِنۡ
أَجۡرٍۖ
إِنۡ
أَجۡرِيَ
إِلَّا
عَلَىٰ
رَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
١٢٧
我不为传达命令而向你们索取任何报酬;我的报酬,只由全世界的主负担。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
26:123至26:127节的经注

درس نمبر 165 تشریح آیات

123……تا……140

قوم ہود احقاف میں رہتی تھی۔ یہ حضر موت کے قریب یمن کی طرف ریت کے ٹیلے ہیں۔ یہ قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد بڑی ترقی یافتہ قوم رہی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں کراہ ارض کو سرکشوں سے پاک کردیا تھا گیا جنہیں آپ کے بعد اپنی تقریر کی وجہ سے یہ لوگ سرکش ہوگئے۔

سورت اعراف میں ان کا قصہ متصلا آیا ہے۔ سورت ہود میں بھی آیا ہے۔ سورت مومنین میں یہ قصہ حضرت ہود کے ذکر کے بغیر آیا ہے۔ اس میں ان کا نام عاد بھی نہیں لیا گیا۔ یاں بھی اس قصے کو بڑے اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ہو داپنی قوم کو دعوت دیتے ہیں۔ قوم تکذیب کرتی ہے اور اللہ کی طرف سے مکذبین ہلاک کردیئے جاتے ہیں۔ اس کا آغاز بھی یوں ہوتا ہے جس طرح قصہ نوح کا آغاز ہوا تھا۔

کذبت عاد……رب العلمین (127)

ایک ہی بات ہے جسے تمام رسول دہراتے نظر آتے ہیں۔ اللہ کی طرف آ جائو ، خدا سے ڈرو اور رسول کی اطاعت کرو ، اور دنیا پرستی کو چھوڑ دو اور دنیا کا ساز و سامان اور ترقی مومن کی منزل مقصود نہیں ہے۔ محض دنیا کے ساز و سامان سے ذرا بلند ہو کر کا مک رو ، اور اللہ کے نزدیک جو عظیم اجر موجود ہے اس پر نظریں گاڑے رہو۔

اس کے بعد بعض اضافی باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس قوم کے مخصوص افعال تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم بڑے بڑے مکانات بنانے میں سخت اسراف اور فضول خرچی سے کام لیتے ہو محض عظمت کے اظہار کے لئے دولت کی نمائش کے لیے ۔ بڑے بڑے پلازے اور ملٹی سٹوری بلڈنگز ، مزید یہ کہ تم نے دنیا کی مادی قوتوں کو مسخر کرلیا ہے اور اس پر نازاں ہو اور اللہ کی قوت سے غافل ہو جو تمہیں ہر وقت دیکھ رہا ہے۔