登入
为我们的使命做出贡献
捐
为我们的使命做出贡献
捐
登入
登入
选择语言
12:52
ذالك ليعلم اني لم اخنه بالغيب وان الله لا يهدي كيد الخاينين ٥٢
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ ٱلْخَآئِنِينَ ٥٢
ذَٰلِكَ
لِيَعۡلَمَ
أَنِّي
لَمۡ
أَخُنۡهُ
بِٱلۡغَيۡبِ
وَأَنَّ
ٱللَّهَ
لَا
يَهۡدِي
كَيۡدَ
ٱلۡخَآئِنِينَ
٥٢
这是因为要他知道,在背地里我并没有不忠于他的行为,并且要他知道,真主不诱导不忠者的诡计。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
12:50至12:52节的经注
تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف علیہ السلام کو وزارت سونپنا ٭٭

خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آ گیا۔ ساتھ ہی اسے بھی معلوم ہو گیا کہ یوسف علیہ السلام بڑے ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ خواب کی تعبیر میں تو آپ علیہ السلام کو کمال حاصل ہے۔ ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے حسن تدبیر والے اور خلق اللہ کا نفع چاہنے والے اور محض بےطمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ خود آپ علیہ السلام سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاؤ یوسف علیہ السلام کو جیل خانے سے آزاد کر کے میرے پاس لے آؤ۔ دوبارہ قاصد آپ کے پاس آیا اور بادشاہ کا پیغام پہنچایا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں یہاں سے نہ نکلوں گا جب تک کہ شاہ مصر اور اس کے درباری اور اہل مصر یہ نہ معلوم کر لیں کہ میرا قصور کیا تھا؟ عزیز کی بیوی کی نسبت جو بات مجھ سے منسوب کی گئی ہے اس میں سچ کہاں تک ہے اب تک میرا قید خانہ بھگتنا واقعہ کسی حقیقت کی بنا پر تھا؟ یا صرف ظلم و زیادتی کی بناء پر؟ تم اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا کر میرا یہ پیغام پہنچاؤ کہ وہ اس واقعہ کی پوری تحقیق کریں۔

حدیث شریف میں بھی یوسف علیہ السلام کے اس صبر کی اور آپ کی اس شرافت و فضیلت کی تعریف آئی ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شک کے حقدار ہم بہ نسبت ابراہیم علیہ السلام کے بابت زیادہ ہیں جب کہ انہوں نے فرمایا تھا «وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي» [ 2-البقرہ: 260 ] ‏ میرے رب مجھے اپنا مردوں کا زندہ کرنا مع کیفیت دکھا اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے [ اس بات کو ] ‏ باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن [ میں دیکھنا ] ‏ اس لیے [ چاہتا ہوں ] ‏ کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کر لے۔ [ یعنی جب ہم اللہ کی اس قدرت میں شک نہیں کرتے تو ابراہیم علیہ السلام جلیل القدر پیغمبر کیسے شک کر سکتے تھے؟ پس آپ کی یہ طلب از روئے مزید اطمینان کے تھی نہ کہ ازرو ئے شک ] ‏۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے کہ آپ نے فرمایا «قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِ» یہ میرے اطمینان دل کے لیے ہے۔

صفحہ نمبر4018

۔ اللہ لوط علیہ السلام پر رحم کرے وہ کسی زور آور جماعت یا مضبوط قلعہ کی پناہ میں آنا چاہنے لگے۔ اور سنو اگر میں یوسف علیہ السلام کے برابر جیل خانہ بھگتے ہوئے ہوتا اور پھر قاصد میری رہائی کا پیغام لاتا تو میں تو اسی وقت جیل خانے سے آزادی منظور کر لیتا۔ [صحیح بخاری:3372] ‏ مسند احمد میں اسی آیت فاضلہ کی تفسیر میں منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہوتا تو اسی وقت قاصد کی بات مان لیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔ [مسند احمد:389/2:حسن] ‏ مسند عبدالرزاق میں ہے آپ فرماتے ہیں واللہ مجھے یوسف علیہ السلام کے صبر و کرم پر رہ رہ کر تعجب آتا ہے اللہ اسے بخشے دیکھو تو سہی بادشاہ نے خواب دیکھا ہے وہ تعبیر کے لیے مضطرب ہے قاصد آ کر آپ علیہ السلام سے تعبیر پوچھتا ہے آپ علیہ السلام فوراً بغیر کسی شرط کے بتا دیتے ہیں۔ اگر میں ہوتا تو جب تک جیل خانے سے اپنی رہائی نہ کرا لیتا ہرگز نہ بتلاتا۔ مجھے یوسف علیہ السلام کے صبر و کرم پر تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اللہ انہیں بخشے کہ جب ان کے پاس قاصد ان کی رہائی کا پیغام لے کر پہنچتا ہے تو آپ علیہ السلام فرماتے ہیں ابھی نہیں جب تک کہ میری پاکیزگی، پاک دامنی اور بے قصوری سب پر تحقیق سے کھل نہ جائے۔ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں تو دوڑ کر دروازے پر پہنچتا یہ روایت مرسل ہے۔

صفحہ نمبر4019

اب بادشاہ نے تحقیق کرنی شروع کی ان عورتوں کو جنہیں عزیز کی بیوی نے اپنے ہاں دعوت پر جمع کیا تھا اور خود اسے بھی دربار میں بلوایا۔ پھر ان تمام عورتوں سے پوچھا کہ ضیافت والے دن کیا گزری تھی؟ سب بیان کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ماشا اللہ یوسف علیہ السلام پر کوئی الزام نہیں اس پر بے سرو پا تہمت ہے۔ واللہ ہم خوب جانتی ہیں کہ یوسف علیہ السلام میں کوئی بدی نہیں اس وقت عزیز کی بیوی خود بھی بول اُٹھی کہ اب حق ظاہر ہو گیا واقعہ کھل گیا۔ حقیقت نکھر آئی مجھے خود اس امر کا اقرار ہے۔ کہ واقعی میں نے ہی اسے پھنسانا چاہا تھا۔ اس نے جو بروقت کہا تھا کہ یہ عورت مجھے پھسلا رہی تھی اس میں وہ بالکل سچا ہے۔ میں اس کا اقرار کرتی ہوں اور اپنا قصور آپ بیان کرتی ہوں تاکہ میرے خاوند یہ بات بھی جان لیں کہ میں نے اس کی کوئی خیانت دراصل نہیں کی۔ یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کی وجہ سے کوئی شر اور برائی مجھ سے ظہور میں نہیں آئی۔ بدکاری سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بچائے رکھا۔ میری اس اقرار سے اور واقعہ کے کھل جانے سے صاف ظاہر ہے اور میرے خاوند جان سکتے ہیں کہ میں برائی میں مبتلا نہیں ہوئی۔ یہ بالکل سچ ہے کہ خیانت کرنے والوں کی مکاریوں کو اللہ تعالیٰ فروغ نہیں دیا۔ ان کی دغا بازی کوئی پھل نہیں لاتی۔

الحمداللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارہویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین۔

صفحہ نمبر4020
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有