Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: Yusuf Ayah 54

12:54
وقال الملك ايتوني به استخلصه لنفسي فلما كلمه قال انك اليوم لدينا مكين امين ٥٤
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌۭ ٥٤
وَقَالَﱔ
ٱلۡمَلِكُﱕ
ٱئۡتُونِيﱖ
بِهِۦٓﱗ
أَسۡتَخۡلِصۡهُﱘ
لِنَفۡسِيۖﱙﱚ
فَلَمَّاﱛ
كَلَّمَهُۥﱜ
قَالَﱝ
إِنَّكَﱞ
ٱلۡيَوۡمَﱟ
لَدَيۡنَاﱠ
مَكِينٌﱡ
أَمِينٞﱢ
٥٤ﱣ
Nhà vua hạ lệnh cho các quần thần: “Các khanh hãy dẫn Yusuf đến gặp trẫm. Trẫm sẽ để Y làm việc riêng cho trẫm.” Sau khi nói chuyện với Yusuf, (nhà vua thấy được sự hiểu biết và trí tuệ của Y), nhà vua nói với Y: “Quả thật, từ ngày hôm nay, ngươi là người có địa vị cao và được tín nhiệm ở nơi ta.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 12:54 đến 12:57

’’مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو‘‘۔ یہاں خزانوں سے مراد غلہ کے کھتے ہیں۔ حضرت یوسف نے بادشاہ کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر شاہ مصر سے یہ اختیار مانگا کہ وہ حکومتی وسائل کے تحت سارے ملک میں غلّہ کے بڑے بڑے کھتے بنوائیں تاکہ ابتدائی سات سالوں میں کسانوں سے فاضل غلّہ لے کر وہاں محفوظ کیا جاسکے (تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 397 ) بادشاہ راضی ہوگیا اور اپنے آئینی اور قانونی اقتدار کے تحت آپ کو ہر قسم کا اختیار دے دیا۔

مصر کا بادشاہ مشرک تھا۔ آیت نمبر 76 سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت یوسف کے تقرر کے تقریباً دس سال بعد تک بھی اسی بادشاہ کا قانون (دین الملک) مصر میں رائج تھا۔ یہ خدا کے ایک پیغمبر کا اسوہ ہے جو بتاتا ہے کہ غیر مسلم حکومت کے تحت کوئی ذیلی عہدہ قبول کرنا اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ اسی بنا پر اسلاف نے ظالم بادشاہ کے تحت قضا کے عہدے قبول كيے (تفسیر النسفی، جلد2، صفحہ 119 )

مصر میں اختیار سنبھالنے سے حضرت یوسف کا مقصد کیا تھا، قرآن کی تفصیل سے بظاہر اس کا مقصد یہ معلوم ہوتاہے کہ بندگان خدا کو طویل قحط کی مصیبت سے بچایا جائے، اور پھر اس کے نتیجہ میں بنی اسرا ئیل کے لیے مصر میں آباد ہونے کے مواقع فراہم كيے جائیں۔

ایمان اور تقویٰ کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے خدا نے ابدی جنت کا یقینی وعدہ کیا ہے۔ دنیا کی زندگی میں بھی ان کو خدا کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ تاہم اس میں ایک فرق ہے۔ جہاں تک حق کے اعلان کا معاملہ ہے، اس کی توفیق ہر ایک کو یکساں طور پر ملتی ہے۔ مگر عملی یافت کے معاملہ میں سب کی نصرت یکساں انداز میں نہیں۔ عملی نصرت کسی کو ایک ڈھنگ پر ملتی ہے اور کسی کو دوسرے ڈھنگ پر۔