Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Taha 20:42

20:42
اذهب انت واخوك باياتي ولا تنيا في ذكري ٤٢
ٱذْهَبْ أَنتَ وَأَخُوكَ بِـَٔايَـٰتِى وَلَا تَنِيَا فِى ذِكْرِى ٤٢
ٱذۡهَبۡ
أَنتَ
وَأَخُوكَ
بِـَٔايَٰتِي
وَلَا
تَنِيَا
فِي
ذِكۡرِي
٤٢
“(Này Musa), Ngươi và người anh em của Ngươi hãy lên đường mang theo các phép lạ của TA, và cả hai chớ đừng xao lãng việc tưởng nhớ TA.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 20:41 đến 20:44

مختلف تجربات سے گزر کر حضرت موسیٰ تکمیل شعورکے آخری مرحلہ میں پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں پیغمبرانہ دعوت کی ذمہ داری سونپ دی۔ اس وقت حضرت موسیٰ کو دو خاص نصیحتیں کی گئیں۔ ایک خدا کے ذکر میں کمی نہ کرنا۔ دوسرے دعوت میں نرم انداز اختیار کرنا۔

خدا کے ذکر سے مراد یہ ہے کہ آدمی کے قلب ودماغ میں خدا کا یقین اس طرح شامل ہوگیا ہو کہ وہ بار بار اسے یاد آتا رہے۔ آدمی کا ہر مشاہدہ اور اس کی زندگی کا ہر واقعہ اس کے خدائی شعور سے جڑ کر اس کو جگانے والا بن جائے۔ عام انسان مادی غذاؤں پر جیتے ہیں۔ حق کا داعی خدا کی یاد میں جیتا ہے۔ خدا کی یاد مومن کا سرمایہ ہے اور اسی طرح داعی کا بھی۔

دوسری ضروری چیز دعوت میں نرم انداز اختیار کرنا ہے۔ فرعون جیسے سرکش انسان کے سامنے بھیجتے ہوئے یہ ہدایت کا کرنا ثابت کرتاہے کہ دعوت کے لیے نرم اور حکیمانہ انداز مطلق طورپر مطلوب ہے۔ مدعو کی طرف سے کوئی بھی سختی یا سرکشی داعی کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ اپنی دعوت میں نرمی اور شفقت کا انداز کھودے۔