Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Taha 20:115

20:115
ولقد عهدنا الى ادم من قبل فنسي ولم نجد له عزما ١١٥
وَلَقَدْ عَهِدْنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُۥ عَزْمًۭا ١١٥
وَلَقَدۡ
عَهِدۡنَآ
إِلَىٰٓ
ءَادَمَ
مِن
قَبۡلُ
فَنَسِيَ
وَلَمۡ
نَجِدۡ
لَهُۥ
عَزۡمٗا
١١٥
Và quả thật, TA đã giao ước với Adam trước đây nhưng Y đã quên (nên đã ăn cây cấm); và TA thấy Y không cương quyết (trong việc duy trì giao ước).
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 20:115 đến 20:118
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس حکم کو آدم علیہ السلام نے چھوڑ دیا۔ پھر آدم علیہ السلام کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے۔ «سورۃ البقرہ»، «سورۃ الاعراف»، «سورۃ الحجر» اور «سورۃ الکہف» میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جا چکی ہے اور سورۃ ص میں بھی اس کا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

ان تمام سورتوں میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا، پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لیے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر کیا اور حکم الٰہی کا انکار کر دیا۔ اس وقت آدم علیہ السلام کو سمجھا دیا گیا کہ دیکھ یہ تیرا اور تیری بیوی حواء علیہا السلام کا دشمن ہے، اس کے بہکاوے میں نہ آ جانا ورنہ محروم ہو کر جنت سے نکال دیے جاؤ گے اور سخت مشقت میں پڑ جاؤ گے۔ روزی کی تلاش کی محنت سر پڑ جائے گی۔ یہاں تو بے محنت و مشقت روزی پہنچ رہی ہے۔ یہاں تو ناممکن ہے کہ بھوکے رہو، ناممکن ہے کہ ننگے رہو۔ اس اندورنی اور بیرونی تکلیف سے بچے ہوئے ہو۔ پھر یہاں نہ پیاس کی گرمی اندرونی طور سے ستائے، نہ دھوپ کی تیزی کی گرمی بیرونی طور پر پریشان کرے۔ اگر شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تو یہ راحتیں چھین لی جائیں گی اور ان کے مقابل کی تکلیفیں سامنے آ جائیں گی۔ لیکن شیطان نے اپنے جال میں انہیں پھانس لیا اور مکاری سے انہیں اپنی باتوں میں لے لیا قسمیں کھا کھا کر انہیں اپنی خیر خواہی کا یقین دلا دیا۔

صفحہ نمبر5343