Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: Sad Ayah 27

38:27
وما خلقنا السماء والارض وما بينهما باطلا ذالك ظن الذين كفروا فويل للذين كفروا من النار ٢٧
وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـٰطِلًۭا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ فَوَيْلٌۭ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنَ ٱلنَّارِ ٢٧
وَمَاﱁ
خَلَقۡنَاﱂ
ٱلسَّمَآءَﱃ
وَٱلۡأَرۡضَﱄ
وَمَاﱅ
بَيۡنَهُمَاﱆ
بَٰطِلٗاۚﱇﱈ
ذَٰلِكَﱉ
ظَنُّﱊ
ٱلَّذِينَﱋ
كَفَرُواْۚﱌﱍ
فَوَيۡلٞﱎ
لِّلَّذِينَﱏ
كَفَرُواْﱐ
مِنَﱑ
ٱلنَّارِﱒ
٢٧ﱓ
TA (Allah) đã không tạo ra trời đất và vạn vật giữa chúng một cách vô ích và không mục đích. Đó chỉ là lối suy nghĩ của những kẻ vô đức tin mà thôi. Vì vậy, khốn cho những kẻ vô đức tin (bị trừng phạt) trong Hỏa Ngục.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 38:27 đến 38:29

دنیا کی چیزوں پر غور کیجيے تو معلوم ہوتاہے کہ اس کا پورا نظام نہایت حکیمانہ بنیادوں پر قائم ہے حالانکہ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ایک الل ٹپ نظام ہو اور اس میں کوئی بات یقینی نہ ہو۔ دو امکان میں سے ایک مناسب تر امکان کا پایا جانا اس بات کا قرینہ ہے کہ اس دنیا کو پیدا کرنے والے نے اس کو ایک با مقصد منصوبہ کے تحت بنایا ہے۔ پھر جو دنیا اپنی ابتدا میں بامقصد ہو وہ اپنی انتہا میں بے مقصد کیوں کر ہوجائے گی۔

اسی طرح اس دنیا میں ہر آدمی آزاد اور خود مختار ہے۔مشاہدہ دوبارہ بتاتا ہے کہ لوگوں میں کوئی شخص وہ ہے جو حقیقت کا اعتراف کرتاہے اور اپنے اختیار سے اپنے آپ کو سچائی اور انصاف کا پابند بناتاہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا شخص وہ ہے جو حقیقت کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ بے قید ہو کر جو چاہے بولتا ہے اور جس طرح چاہے عمل کرتاہے۔ عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی کہ جب یہاں دو قسم کے انسان ہیں تو ان کا انجام یکساں ہو کر رہ جائے۔

دنیا کی اس صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو زندگی کے متعلق قرآن کا بیان ہی زیادہ مطابق حال نظر آئے گا، نہ کہ ان لوگوں کا بیان جو زندگی کی تشریح اس کے برعکس انداز میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔