Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
38:27
وما خلقنا السماء والارض وما بينهما باطلا ذالك ظن الذين كفروا فويل للذين كفروا من النار ٢٧
وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـٰطِلًۭا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ فَوَيْلٌۭ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنَ ٱلنَّارِ ٢٧
وَمَا
خَلَقۡنَا
ٱلسَّمَآءَ
وَٱلۡأَرۡضَ
وَمَا
بَيۡنَهُمَا
بَٰطِلٗاۚ
ذَٰلِكَ
ظَنُّ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْۚ
فَوَيۡلٞ
لِّلَّذِينَ
كَفَرُواْ
مِنَ
ٱلنَّارِ
٢٧
TA (Allah) đã không tạo ra trời đất và vạn vật giữa chúng một cách vô ích và không mục đích. Đó chỉ là lối suy nghĩ của những kẻ vô đức tin mà thôi. Vì vậy, khốn cho những kẻ vô đức tin (bị trừng phạt) trong Hỏa Ngục.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 38:27 đến 38:29
مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں ٭٭

ارشاد ہے کہ مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں یہ سب عبادتِ خالق کے لیے پیدا کی گئی ہے پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ ماننے والے کی سربلندی کی جائے اور نہ ماننے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ کافروں کا خیال ہے کہ ہم نے انہیں یونہی پیدا کر دیا ہے؟ اور آخرت اور دوسری زندگی کوئی چیز نہیں یہ غلط ہے۔ ان کافروں کو قیامت کے دن بڑی خرابی ہو گی کیونکہ اس آگ میں انہیں جلنا پڑے گا جو ان کے لیے اللہ کے فرشتوں نے بڑھکا رکھی ہے۔ یہ ناممکن ہے اور ان ہونی بات ہے کہ مومن و مفسد کو اور پرہیزگار اور بدکار کو ایک جیسا کر دیں۔

اگر قیامت آنے والی ہی نہ ہو تو یہ دونوں انجام کے لحاظ سے یکساں ہی رہے۔ حالانکہ یہ خلاف انصاف ہے قیامت ضرور آئے گی نیک کار جنت میں اور گنہگار جہنم میں جائیں گے۔ پس عقلی اقتضا بھی دار آخرت کے ثبوت کو ہی چاہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ظالم پاپی اللہ کی درگاہ سے راندہ ہوا دنیا میں خوش وقت ہے مال اولاد فراغت تندرستی سب کچھ اس کے پاس ہے اور ایک مومن متقی پاک دامن ایک ایک پیسے سے تنگ ایک ایک راحت سے دور رہے تو حکمت علیم و حکیم و عادل کا اقتضاء یہ تھا کہ کوئی ایسا وقت بھی آئے کہ اس نمک حرام سے اس کی نمک حرامی کا بدلہ لیا جائے اور اس صابر و شاکر فرمانبردار کی نیکیوں کا اسے بدلہ دیا جائے اور یہی دار آخرت میں ہونا ہے۔

صفحہ نمبر7697

پس ثابت ہوا کہ اس جہان کے بعد ایک جہاں یقیناً ہے۔ چونکہ یہ پاک تعلیم قرآن سے ہی حاصل ہوئی ہے اور اس نیکی کا رہبر یہی ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ مبارک کتاب ہم نے تیری طرف نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اسے سمجھیں اور ذی عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کر سکیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس نے قرآن کے الفاظ حفظ کر لیے اور قرآن پر عمل نہیں کیا اس نے قرآن میں تدبر و غور بھی نہیں کیا لوگ کہتے ہیں ہم نے پورا قرآن پڑھ لیا لیکن قرآن کی ایک نصیحت یا قرآن کے ایک حکم کا نمونہ ان میں نظر نہیں آتا ایسا نہ چاہیئے۔ اصل غور و خوض اور نصیحت و عبرت عمل ہے۔

صفحہ نمبر7698