Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
11:5
الا انهم يثنون صدورهم ليستخفوا منه الا حين يستغشون ثيابهم يعلم ما يسرون وما يعلنون انه عليم بذات الصدور ٥
أَلَآ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا۟ مِنْهُ ۚ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٥
أَلَآ
إِنَّهُمۡ
يَثۡنُونَ
صُدُورَهُمۡ
لِيَسۡتَخۡفُواْ
مِنۡهُۚ
أَلَا
حِينَ
يَسۡتَغۡشُونَ
ثِيَابَهُمۡ
يَعۡلَمُ
مَا
يُسِرُّونَ
وَمَا
يُعۡلِنُونَۚ
إِنَّهُۥ
عَلِيمُۢ
بِذَاتِ
ٱلصُّدُورِ
٥
(Những kẻ giả tạo đức tin) cố khép lòng mình hầu lẫn trốn khỏi Ngài (nhưng chúng hãy biết rằng) ngay cả khi chúng phủ áo che thân mình thì Allah vẫn biết những gì chúng che giấu và những gì chúng công khai phơi bày. Thật vậy, Ngài biết hết mọi điều thầm kín trong lòng (chúng).
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت 5 اَلاآ اِنَّہُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَہُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُ یہ مقام مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں۔ ثَنٰی یَثْنِیْ کے معنی پھیرنے ‘ موڑنے اور لپیٹنے کے ہیں۔ مکہ میں رسول اللہ کی دعوت کے مخالفین میں سے کچھ لوگوں کا رویہ ایسا تھا کہ آپ کو آتے دیکھتے تو رخ بدل لیتے یا کپڑے کی اوٹ میں منہ چھپالیتے ‘ تاکہ کہیں آمنا سامنا نہ ہوجائے اور آپ انہیں مخاطب کر کے کچھ اپنی باتیں نہ کہنے لگیں۔ یہاں ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ حق کا سامنا اور حقیقت کا مواجہہ کرنے سے گھبراتے ہیں ‘ حالانکہ کسی کے گریز کرنے سے حقیقت غائب نہیں ہوجاتی۔ شتر مرغ طوفان کے دوران اگر ریت میں سر چھپالے تو اس سے طوفان کا رخ تبدیل نہیں ہوجاتا۔ اس کے علاوہ ایک رائے وہ ہے جو بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رض کے حوالے سے نقل ہوئی ہے کہ کچھ اہل ایمان پر حیا کا بہت زیادہ غلبہ تھا مثلاً حضرت عثمان ان اصحاب میں بہت نمایاں تھے ایسے لوگ کبھی غسل کے وقت بھی عریاں ہونا پسند نہیں کرتے تھے اور ایسے مواقع پر اس انداز سے جھک جاتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہو ستر چھپا رہے۔ اسی طرح قضائے حاجت کے وقت بھی پورے ستر کا اہتمام کرتے تھے۔ اس حوالے سے اس حکم کا منشا یہ ہے کہ تم اس سلسلے میں جو کچھ بھی کرلو ‘ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے تو نہیں چھپ سکتے ہو۔ لہٰذا ستر چھپانے کے بارے میں جو بھی احکامات ہیں ان کی معروف طریقے سے پیروی کرو۔ اس طرح کے کسی بھی معاملہ میں غلو کی ضرورت نہیں ہے۔