Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ar-Rum 30:52

30:52
فانك لا تسمع الموتى ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرين ٥٢
فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ ٥٢
فَإِنَّكَ
لَا
تُسۡمِعُ
ٱلۡمَوۡتَىٰ
وَلَا
تُسۡمِعُ
ٱلصُّمَّ
ٱلدُّعَآءَ
إِذَا
وَلَّوۡاْ
مُدۡبِرِينَ
٥٢
Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) chắc chắn không thể làm cho người chết nghe được và cũng không thể làm cho người điếc nghe tiếng gọi khi họ đã quay lưng bỏ đi.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 30:52 đến 30:53

فانک لا تسمع الموتی ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (52 – 53) ، “۔

یہ لوگ مردے ہیں ، ان میں زندگی کی رمق نہیں ، یہ بہرے ہیں ، کوئی آواز نہیں سن سکتے۔ یہ اندھے ہیں ان کو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ جو شخص اپنے احساس کے دروازے اس کائنات ثوامیس فطرت کے لیے بند کردیتا ہے اور اسے فطرت کے یہ نشانات نظر نہیں آتے وہ مر چکا ہے۔ اس میں حیات نہیں ہے۔ اگر کوئی زندگی ہے تو پھر یہ حیوانی زندگی ہے بلکہ وہ حیوانوں سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ حیوانوں میں ایک فطری شعور ہوتا ہے اور وہ شعور کبھی بھی غلطی نہیں کرتا۔ جو شخص اللہ کی ان نشانیوں کی پکار نہیں سنتا وہ بالکل بہرہ ہے۔ اگرچہ اس کے کان ہوں اور ان کے ساتھ آواز ٹکراتی ہو۔ جو شخص اس کائنات میں بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں کو نہیں دیکھتا ، وہ اندھا ہے اگرچہ حیوان کی طرح اس کے بڑے بڑے موٹے موٹے دیدے ہوں۔

ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (30: 53) ” تم صرف انہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں “۔ ایسے ہی لوگ دعوت کو سنتے ہیں کیونکہ ان کے دل زندہ ہوتے ہیں اور زندہ دراصل دل کی زندگی ہوتی ہے۔ ان کی آنکھیں بینا ہوتی ہیں۔ ان کی قوائے مدر کہ صحیح و سلامت ہوتی ہیں ، لہٰذا وہ سنتے ہیں۔ سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ دعوت کی پکار ان کی فطرت سے ٹکراتے ہی ان کے اندر انابت پیدا کرتی ہے۔ اب ذرا انسان کو خود اس کی ذات اور اس کے جسم کی دنیا میں گھمایا جاتا ہے ۔ اپنے ماحول سے لاکر خود اپنے نفس کی وادیوں میں پھرایا جاتا ہے کہ تم پیدا کیسے ہوئے ؟ اس زمین پر تمہاری پیدائش کیسی ہے ؟ زندگی کیسی ہے اور تم مر کس طرح جاتے ہو ؟ اور پھر قیامت کا منظر کیا ہوگا ؟