Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ar-Ra'd 13:25

13:25
والذين ينقضون عهد الله من بعد ميثاقه ويقطعون ما امر الله به ان يوصل ويفسدون في الارض اولايك لهم اللعنة ولهم سوء الدار ٢٥
وَٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَـٰقِهِۦ وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۙ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوٓءُ ٱلدَّارِ ٢٥
وَٱلَّذِينَ
يَنقُضُونَ
عَهۡدَ
ٱللَّهِ
مِنۢ
بَعۡدِ
مِيثَٰقِهِۦ
وَيَقۡطَعُونَ
مَآ
أَمَرَ
ٱللَّهُ
بِهِۦٓ
أَن
يُوصَلَ
وَيُفۡسِدُونَ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
أُوْلَٰٓئِكَ
لَهُمُ
ٱللَّعۡنَةُ
وَلَهُمۡ
سُوٓءُ
ٱلدَّارِ
٢٥
Ngược lại, những kẻ phá vỡ giao ước của Allah sau khi đã nhận lấy giao ước của Ngài, những kẻ cắt đứt (quan hệ dòng tộc) - điều mà Allah đã ra lệnh phải hàn gắn, và những kẻ làm điều thối tha trên trái đất. Chúng là những kẻ sẽ bị sự nguyền rủa (của Allah) và sẽ nhận một kết cục vô cùng tồi tệ.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت نمبر 25

یہ اس عہد الست کو توڑتے ہیں جو فطرت انسانی نے ناموس ازلی کی صورت میں اللہ کے ساتھ کیا ہوا ہے اور وہ اس کے بعد تمام وعدوں اور معاہدوں کو توڑتے ہیں۔ اگر ایک انسان عہد الست کو توڑ دے تو گویا وہ ان تمام وعدوں اور عہدوں کا ناقض ہوگا جو اس عہد الست پر قائم ہیں۔ جس شخص کے دل میں خوف خدا نہیں ہے وہ کسی شخص ، کسی عہد اور کسی میثاق کا پاس کیسے کرسکتا ہے ۔ یعنی ایسے شخص بالعموم ان روابط کو توڑتے ہیں جن کے جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ اہل عقل و دانش تو صبر کرتے تھے ، نماز قائم کرتے تھے اور اعلانیہ اور پوشیدہ راہ خدا میں انفاق کرتے تھے اور پھر ان کا عمومی رویہ یہ تھا کہ وہ برائی کا جواب نیکی سے دیتے تھے۔ لیکن یہ لوگ فساد فی الارض برپا کرتے ہیں۔ اہل دانش کی جن چیزوں کا اوپر ذکر ہوا ان میں سے کسی ایک کو چھوڑنے سے فساد فی الارض نمودار ہوتا ہے۔

” وہ لوگ “ وہ جو اللہ سے دور ہیں اور راندۂ درگاہ ہیں ان کے لئے لعنت ہے۔ تکریم و استقبال کے مقابلے میں راندگی ہے اور نعم الدار کے مقابلے میں سوء الدار ہے۔

یہ لوگ اس لیے راندۂ درگاہ ہوئے کہ وہ متاع حیات دنیا میں ہی غرق رہے اور ان کی نظریں آخرت کی دائمی نعمتوں کی طرف نہ اٹھ سکیں۔ حالانکہ رزق کا تعین صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہی اس میں توسیع بھی کرتا ہے ، وہی رزق میں تنگی بھی کرتا ہے ، یہ سب کام اللہ کے اختیار میں تھا اور کوئی شخص اپنے لیے خود فراخی رزق کا انتظام نہیں کرسکتا تھا کہ اس پر اتراتا۔ اگر یہ لوگ آخرت کے طلبگار ہوتے تو یہ ضروری نہ تھا کہ اللہ ان سے دنیا کی خوشحالی چھین لیتا کیونکہ وہی داتا تھا۔