Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Baqarah 2:15

2:15
الله يستهزي بهم ويمدهم في طغيانهم يعمهون ١٥
ٱللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِى طُغْيَـٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ ١٥
ٱللَّهُ
يَسۡتَهۡزِئُ
بِهِمۡ
وَيَمُدُّهُمۡ
فِي
طُغۡيَٰنِهِمۡ
يَعۡمَهُونَ
١٥
Allah cũng bỡn cợt với họ và Ngài bỏ mặc cho họ lang thang vơ vẩn trong sự thái quá của họ.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 2:12 đến 2:16

جو لوگ فائدوں اور مصلحتوں کو اولین اہمیت ديے ہوئے ہوتے ہیں ان کے نزدیک یہ نادانی کی بات ہوتی ہے کہ کوئی شخص تحفظات کے بغیر اپنے آپ کو ہمہ تن حق کے حوالے کردے۔ ایسے لوگوں کی حقیقی وفاداریاں اپنے دنیوی مفادات کے ساتھ ہوتی ہیں۔البتہ اسی کے ساتھ وہ حق سے بھی اپنا ایک ظاہری رشتہ قائم کرلیتے ہیں۔ اس کو وہ عقل مندی سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ان کی دنیا بھی محفوظ ہے اور اسی کے ساتھ ان کوحق پرستی کا تمغہ بھی حاصل ہے۔ مگر یہ ایک ایسی خوش فہمی ہے جو صرف آدمی کے اپنے دماغ میںہوتی ہے۔ اس کے دماغ کے باہر کہیں اس کا وجود نہیں ہوتا۔ آزمائش کا ہر موقع ان کو سچے دین سے کچھ اور دور، اور اپنے مفاد پرستانہ دین سے کچھ اور قریب کردیتا ہے۔ اس طرح گویا ان کے نفاق کا مرض بڑھتا رہتا ہے۔ ایسے لوگ جب سچے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو ان کا احساس یہ ہوتا ہے کہ وہ خواہ مخواہ سچائی کی خاطر اپنے کو برباد کررہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اپنے طریقے کو وہ اصلاح کا طریقہ کہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو نظر آتا ہے کہ اس طرح کسی سے جھگڑا مول لیے بغیر اپنے سفر کو کامیابی کے ساتھ طے کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہ صرف بے شعوری کی بات ہے۔ اگر وہ گہرائی کے ساتھ سوچیں تو ان پر کھلے گا کہ اصلاح یہ ہے کہ بندے صرف اپنے رب کے ہوجائیں۔ اس کے برعکس، فساد یہ ہے کہ خدا اور بندے کے تعلق کو درست کرنے کے لیے جو تحریک چلے اس میں روڑے اٹکائے جائیں۔ ان کا یہ بظاہر نفع کا سودا حقیقۃً گھاٹے کا سودا ہے۔ کیوں کہ وہ بے آمیز حق کو چھوڑ کر ملاوٹی حق کو اپنے لیے پسند کررہے ہیں جو کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ اپنے دنیوی معاملات میںہوشیار ہونا اور آخرت کے معاملہ میں سرسری توقعات کو کافی سمجھنا، گویا خدا کے سامنے جھوٹ بولنا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں ان کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اس قسم کی جھوٹی زندگی آدمی کو اللہ کے یہاں عذاب کے سوا کسی اورچیز کا مستحق نہیں بناتی۔