Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Anbiya Ayah 2

21:2
ما ياتيهم من ذكر من ربهم محدث الا استمعوه وهم يلعبون ٢
مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍۢ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا ٱسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ ٢
مَاﱉ
يَأۡتِيهِمﱊ
مِّنﱋ
ذِكۡرٖﱌ
مِّنﱍ
رَّبِّهِمﱎ
مُّحۡدَثٍﱏ
إِلَّاﱐ
ٱسۡتَمَعُوهُﱑ
وَهُمۡﱒ
يَلۡعَبُونَﱓ
٢ﱔ
Bất cứ điều nhắc nhở mới nào từ Thượng Đế của họ đến với họ, họ đều chỉ nghe nó với thái độ bỡn cợt.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 21:1 đến 21:4

ہر آدمی جو دنیا میں ہے وہ زندگی سے زیادہ موت سے قریب ہے۔ اس اعتبار سے ہر آدمی اپنے روزِ حساب کے عین کنارے کھڑا ہوا ہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ کسی بھی یادہانی پر توجہ نہیںدیتا، خواہ وہ پیغمبر کے ذریعہ کرائی جائے یا غیر پیغمبر کے ذریعہ۔حق کے داعی کی بات کو وہ بس ’’ایک انسان‘‘ کی بات کہہ کر نظر انداز کردیتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں جب قرآن کے ذریعہ دعوت شروع کی تو قرآن کا خدائی کلام لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے لگا۔ یہ وہاں کے سرداروں کے ليے بڑی سخت بات تھی۔ کیوں کہ اس سے ان کی قیادت خطرہ میں پڑ رہی تھی۔ قرآن توحید کی دعوت دیتاتھا، اور مکہ کے سردار شرک کے اوپر اپنی سرداری قائم کيے ہوئے تھے۔ انھوں نے لوگوں کے ذہن کو اس سے ہٹانے کے لیے یہ کیا کہ لوگوں سے کہا کہ اس کلام میں بظاہر جو تاثیر تم دیکھ رہے ہو وہ اس لیے نہیں ہے کہ وہ خدا کا کلام ہے۔ اس کا زور صداقت کا زور نہیں بلکہ جادو کا زور ہے۔ یہ جادو بیانی کا معاملہ ہے، نہ کہ آسمانی کلام کا معاملہ۔

اس قسم کی بات کہنے والے لوگ اگرچہ خدا کا نام لیتے ہیں مگر انھیں یقین نہیں کہ خدا انھیں دیکھ اور سن رہا ہے۔ اگر انھیں خدا کے عالم الغیب ہونے کا یقین ہوتاتو وہ ایسی غیر سنجیدہ بات ہر گز اپنی زبان سے نہ نکالتے۔