Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-An'am 6:94

6:94
ولقد جيتمونا فرادى كما خلقناكم اول مرة وتركتم ما خولناكم وراء ظهوركم وما نرى معكم شفعاءكم الذين زعمتم انهم فيكم شركاء لقد تقطع بينكم وضل عنكم ما كنتم تزعمون ٩٤
وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقْنَـٰكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَـٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُورِكُمْ ۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَـٰٓؤُا۟ ۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ٩٤
وَلَقَدۡ
جِئۡتُمُونَا
فُرَٰدَىٰ
كَمَا
خَلَقۡنَٰكُمۡ
أَوَّلَ
مَرَّةٖ
وَتَرَكۡتُم
مَّا
خَوَّلۡنَٰكُمۡ
وَرَآءَ
ظُهُورِكُمۡۖ
وَمَا
نَرَىٰ
مَعَكُمۡ
شُفَعَآءَكُمُ
ٱلَّذِينَ
زَعَمۡتُمۡ
أَنَّهُمۡ
فِيكُمۡ
شُرَكَٰٓؤُاْۚ
لَقَد
تَّقَطَّعَ
بَيۡنَكُمۡ
وَضَلَّ
عَنكُم
مَّا
كُنتُمۡ
تَزۡعُمُونَ
٩٤
Quả thật, các ngươi phải một mình trở về trình diện TA giống như TA đã tạo hóa các ngươi lần đầu. Các ngươi phải bỏ lại sau lưng mọi thứ mà TA đã ban cấp cho các ngươi (trên trần gian), và TA không thấy bên cạnh các ngươi những kẻ can thiệp nào mà các ngươi đã từng khẳng định rằng chúng là đối tác (của Allah). Quả thật, mối quan hệ giữa các ngươi bị cắt đứt hoàn toàn và (những thần linh) mà các ngươi đã từng khẳng định sẽ bỏ các ngươi mất dạng.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 6:93 đến 6:94

اللہ جب اپنے کسی بندے کو اپنی پکار بلند کرنے کے لیے کھڑا کرتا ہے تو اسی کے ساتھ اس کو خصوصی توفیق بھی عطا کرتا ہے۔ اس کے کردار میں خوفِ آخرت کی جھلک ہوتی ہے۔ اس کی باتوں میں خدائی استدلال کی طاقت نظر آتی ہے ۔ بے پناہ مخالفتوں کے باوجود وه اپنے پیغام رسانی کے عمل کو اعلیٰ ترین شکل میں جاری رکھنے میں کامیاب ہوتاہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی زمین پر خدا کی نشانی ہوتا ہے۔ مگر جن کی نگاہیں دنیوی عظمت کی چیزوں میں گم ہوں وہ آخرت کے داعی کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتے۔ حتی کہ ان کے مادی پیمانہ میں ان کی اپنی ذات برتر اور اللہ کے داعی کی ذات کم تر دکھائی دیتی ہے۔ یہ چیز ان کو تکبر میں مبتلا کردیتی ہے اور جو لوگ تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائیں ان سے کوئی بھی نامعقول رویہ مستبعد نہیں رہتا۔ حتی کہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتے ہیں کہ وہ بھی ویسا ہی کلام تخلیق کرسکتے ہیں جیسا کلام خدا کی طرف سے کسی بندہ پر اترتا ہے — وہ خدا کو طلسماتی نشانیوں ميں دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے وہ بشری نشانیوں میں ظاہر ہونے والے خدا کو پہچان نہیں پاتے۔

یہ تکبر جو کسی آدمی کے اندر پیداہوتا ہے وہ اس دنیوی حیثیت اور مادی سامان کی بنا پر ہوتا ہے جو اس کو دنیا میں ملا ہوا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اسے حاصل ہے وہ محض آزمائش کے لیے اور متعین مدت تک کے لیے ہے۔ موت کا وقت آتے ہی اچانک یہ تمام چیزیں چھن جائیں گی۔ اس کے بعد ہر آدمی اپنی زندگی کے اس مرحلہ میں پہنچ جاتاہے، جہاں نہ اس کی دولت ہوگی اور نہ اس کی حیثیت، جہاں نہ اس کے ساتھي ہوں گے اور نہ اس کے سفارشی۔ وہ ہوگا اور اس کا خدا ہوگا۔ دنیا میں اس کو جن چیزوں پر ناز تھا ان میں سے کوئی چیز بھی اس دن اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے کے لیے موجود نہ ہوگی۔

دنیا میں ہر آدمی الفاظ کے طلسم میں جیتا ہے۔ ہر آدمی اپنے حسبِ حال ایسے الفاظ تلاش کرلیتا ہے جس میں اس کا وجود بالکل برحق دکھائی دے، اس کا راستہ سیدھا منزل کی طرف جاتاہوا نظر آئے۔ مگر آخرت کا انقلاب جب حقیقتوں کے پردے پھاڑ دے گا تو لوگوں کے یہ الفاظ اس قدر بے معنی ہوجائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔