Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-An'am Ayah 90

6:90
اولايك الذين هدى الله فبهداهم اقتده قل لا اسالكم عليه اجرا ان هو الا ذكرى للعالمين ٩٠
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ ۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقْتَدِهْ ۗ قُل لَّآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَـٰلَمِينَ ٩٠
أُوْلَٰٓئِكَﲻ
ٱلَّذِينَﲼ
هَدَىﲽ
ٱللَّهُۖﲾﲿ
فَبِهُدَىٰهُمُﳀ
ٱقۡتَدِهۡۗﳁﳂ
قُلﳃ
لَّآﳄ
أَسۡـَٔلُكُمۡﳅ
عَلَيۡهِﳆ
أَجۡرًاۖﳇﳈ
إِنۡﳉ
هُوَﳊ
إِلَّاﳋ
ذِكۡرَىٰﳌ
لِلۡعَٰلَمِينَﳍ
٩٠ﳎ
Đó là những người đã được Allah ban cho sự chỉ đạo, cho nên, các ngươi hãy noi theo sự chỉ đạo của họ. Ngươi (hỡi Thiên Sứ) hãy nói: “Ta không hề yêu cầu các người trả tiền thù lao cho Ta về (Qur’an). Quả thật, Nó là Thông Điệp Nhắc Nhở dành cho thiên hạ (loài người và loài Jinn).”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 6:84 đến 6:90

’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کرلیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتاہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتاہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لیے ہو یا عام انسانوں کے لیے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتاہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔

دعوتِ حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہوچکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچا رہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم نهيں چلا سکتے ہیں۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر کبھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔

مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت ’’قوم‘‘ مکہ والوں نے آپ کا انکارکردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کرديے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتی کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔