Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ad-Duhaa 93:5

93:5
ولسوف يعطيك ربك فترضى ٥
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰٓ ٥
وَلَسَوۡفَ
يُعۡطِيكَ
رَبُّكَ
فَتَرۡضَىٰٓ
٥
Thượng Đế của Ngươi chắc chắn sẽ ban cho Ngươi điều mà Ngươi sẽ hài lòng.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت 5{ وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی۔ } ”اور عنقریب آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ آپ ﷺ راضی ہوجائیں گے۔“ یعنی اب بہت جلد آپ ﷺ کی محنتوں کے ایسے ایسے نتائج آپ ﷺ کے سامنے آئیں گے کہ انہیں دیکھ کر آپ ﷺ خوش ہوجائیں گے۔ 1 یہاں پر پچھلی سورت کی آخری آیت کے یہ الفاظ بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { وَلَسَوْفَ یَرْضٰی۔ } گویا جو خوشخبری یہاں حضور ﷺ کو سنائی جارہی ہے وہی بشارت سورة اللیل میں حضرت ابوبکر رض کو دی گئی ہے۔ دونوں آیات کا اسلوب اصلاً ایک سا ہے ‘ صرف ضمیر اور صیغے کا فرق ہے۔ حضور ﷺ پر چونکہ وحی آتی تھی اس لیے آپ ﷺ کو صیغہ حاضر تَرْضٰی میں براہ راست مخاطب کیا گیا ‘ جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رض کے لیے غائب کا صیغہ یَرْضٰی آیا ہے۔ ”انقباض“ کی مذکورہ کیفیت کے سیاق وسباق میں اب اللہ تعالیٰ حضور ﷺ پر اپنے احسانات جتا رہا ہے۔ یہ بھی دراصل حضور ﷺ کے لیے تسلی ہی کا ایک انداز ہے۔ جبکہ اس میں ہمارے لیے بھی راہنمائی ہے کہ جب کسی وقت آدمی پر ڈپریشن اور افسردگی کی کیفیت طاری ہو تو اسے چاہیے کہ اس کیفیت میں وہ خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کو گن گن کر یاد کرے کہ اللہ تعالیٰ کس کس انداز میں اس کی مدد کرتا رہا ہے اور کیسی کیسی مشکلات سے اسے نجات دلاتا رہا ہے۔ ظاہر ہے ماضی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد کرنے سے ایک پریشان حال آدمی کا حوصلہ بڑھتا ہے اور اس کی مثبت سوچ کو تحریک ملتی ہے۔